لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل غزہ پر قبضے کے مترادف ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس نام نہاد بورڈ آف پیس کے ذریعے غزہ کے مسئلے کا منصفانہ حل ممکن نہیں۔
لیاقت بلوچ نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ قومی اسمبلی میں ان کی شعلہ بیانی نے اتحادیوں کے لیے ’’نورا کشتی‘‘ کا نیا اکھاڑا کھڑا کر دیا ہے۔ جس سے سنجیدہ قومی معاملات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے حکومت کی زرعی پالیسیوں پر بھی سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمت 3500 روپے مقرر کرنا زراعت اور کسانوں کی بربادی کے مترادف ہے۔ اس فیصلے سے کسان معاشی طور پر تباہ ہو رہے ہیں۔ اور حکومت کو فوری طور پر اس پر نظرثانی کرنی چاہیے۔
گزشتہ روز جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے حکومتی فیصلے کو مسترد کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسے کسی بھی فورم کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف ہو۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: گل پلازہ آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل، آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی
واضح رہے کہ پاکستان نے امریکی صدر کے غزہ بورڈ آف پیس منصوبے کی دعوت قبول کرنے کے بعد اس پر دستخط بھی کر دیئے ہیں۔
