چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے سردار دوست محمد خان کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ فیصلے کے مطابق درخواست گزار اپنے الزامات کے حق میں کوئی مستند اور قابلِ قبول شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کی جانب سے پولنگ اسٹاف اور ریٹرننگ افسر (آر او) کے خلاف لگائے گئے الزامات محض دعوؤں تک محدود تھے، جن کی تائید میں نہ تو کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کیا گیا اور نہ ہی کوئی ایسا شواہد پیش کیے گئے جو انتخابی قوانین کی خلاف ورزی کو ثابت کر سکیں۔
اسلام آباد میں غیر رجسٹرڈ اسکولوں کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
الیکشن کمیشن نے واضح کیا کہ انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال اٹھانے کے لیے ٹھوس شواہد ناگزیر ہوتے ہیں اور محض الزامات کی بنیاد پر انتخابی نتائج یا عمل کو مشکوک قرار نہیں دیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کمیشن قانون اور آئین کے مطابق آزادانہ اورغیرجانبدارانہ فیصلے کرنے کا پابند ہے، اور اسی اصول کے تحت درخواست کو مسترد کیا گیا۔
