اسلام آباد، پیپلز پارٹی نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے حکومت سے فوری وضاحت کا مطالبہ کر دیا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئررہنما نوید قمر نے کہا کہ خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر بات کرتے ہوئے اچانک 18ویں ترمیم کو نشانہ بنایا، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
نوید قمرنے کہا کہ حکمران جماعت (ن) لیگ کے پارلیمانی لیڈرکا بیان حکومت کی پالیسی سمجھا جائے گا، اس لیے حکومت واضح کرے کہ آیا وہ 18ویں ترمیم پر نظرثانی کرنا چاہتی ہے یا نہیں۔
آٹھ فروری کو پورا ملک احتجاج کرے گا، علیمہ خان
انہوں نے کہا کہ ملک میں باربارتجربات کئے گئے اورہرتجربے نے پاکستان کونقصان پہنچایا، یہاں تک کہ ملک دو لخت ہوگیا، وفاق کوچاہیے کہ مزید تجربات سے بازرہے۔
دوسری جانب وفاقی وزیرقانون اعظم نذیرتارڑنے خواجہ آصف کے بیان کوان کی ذاتی رائے قراردیتے ہوئے کہا کہ ہر رکن کی اپنی رائے ہو سکتی ہے تاہم حکومت کے تمام فیصلے پارلیمنٹ کی مشاورت اوررضامندی سے ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز خواجہ آصف نے کہا تھا کہ 18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلا ثابت ہوئی ہے اورتمام اختیارات صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں جبکہ کراچی جیسے واقعات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔
