نئی دہلی: بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ایران کی چابہار پورٹ سے علیحدگی کے بعد اپنے ہی ملک میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے ایک ویڈیو ریلیز کی۔ جس میں کہا گیا کہ “نریندر مودی نے پھر کیا ٹرمپ کے آگے سرینڈر”۔
ویڈیو میں کہا گیا کہ بھارت نے معاہدے کے تحت چابہار بندرگاہ پر 10 سال کے لیے انتظام سنبھالا تھا۔ لیکن امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت نے بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کر لی۔ اور بندرگاہ کا کنٹرول ایران کے حوالے کر دیا۔
Narendra Modi Has Surrendered To Trump Again
This time, the crucial and strategic Chabahar Port pic.twitter.com/dz0gUfyj4X
— Congress (@INCIndia) January 17, 2026
کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ بھارت نے پابندیوں کے نفاذ سے قبل ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی۔ جس کے بعد ایران اب اس سرمایہ کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ پر سرگرمیوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی ریاست منی سوٹا میں جاری مظاہروں میں شدت، فوج کو تیار رہنے کا حکم
یہ اقدام بھارتی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ اور اپوزیشن اسے نریندر مودی کی پالیسیوں پر ملکی نقصان قرار دے رہی ہے۔
