بجلی صارفین پر مزید بوجھ پڑنے کا امکان ہے، کیونکہ ایک ماہ کے لیے بجلی 48 پیسے فی یونٹ مہنگی ہونے کی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیپرا میں درخواست جمع کرا دی ہے، جس پر نیپرا اتھارٹی 29 جنوری کو سماعت کرے گی۔
درخواست کے مطابق دسمبر کے مہینے میں 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ ڈسکوز کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔
سی پی پی اے کا کہنا ہے کہ دسمبر میں بجلی کی فی یونٹ لاگت 9 روپے 62 پیسے رہی۔ پیداواری ذرائع کے لحاظ سے دسمبر میں ہائیڈل ذرائع سے 18.07 فیصد بجلی پیدا کی گئی، جبکہ مقامی کوئلے سے بجلی کی پیداوار 13.99 فیصد رہی۔
نیپرا نے ملک بھر کیلئے یکساں بجلی ٹیرف کی منظوری دیدی
اسی طرح درآمدی کوئلے سے 10.13 فیصد، قدرتی گیس سے 11.20 فیصد اور درآمدی گیس سے 17.24 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ نیوکلیئر ذرائع سے دسمبر میں 25.05 فیصد بجلی پیدا ہونے کی درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے۔
نیپرا کی جانب سے درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین کو ایک ماہ کے لیے اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔
