افغانستان پر قابض طالبان رجیم کو سفارتی محاذ پر ایک کے بعد دوسری ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بیشترممالک کی جانب سے شرپسند افغان طالبان کی انتہا پسندانہ سوچ اورعسکریت پسندی پر تنقید کی جا رہی ہے۔
آریانہ نیوز نے روسی عہدیدار ضمیر کابولوف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روسی عہدیدار کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے پر امریکا سے کوئی رابطہ ہوا اور نہ ہی کوئی اجلاس طے ہے۔
ضمیر کابولوف نے کہا کہ امریکا نے افغانستان سے متعلق کوئی مذاکرات نہیں کیے۔ افغان انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ کئی ممالک سے ملک بدری کے بعد امریکا نے بھی افغانیوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا میں آباد کاری کیلئے قطر میں قائم کیمپ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، 2021 میں افغانستان سے انخلا کے بعد قطر کے کیمپ میں افغانیوں کو رکھا گیا تھا۔
سعودی حکومت کا اعضاء عطیہ کرنے والے 200 افراد کیلئے شاہی اعزازات کا اعلان
رپورٹ میں کہا گیا کہ شرپسندانہ ذہنیت کی وجہ سے متعدد ممالک افغانیوں پرویزا پابندی اور ملک بدری عمل میں لا چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان رجیم کا سخت گیر طرزِ حکمرانی اور دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اسے عالمی سطح پر تنہا کر چکی ہے۔
