اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم صحت کارڈ پروگرام کا باقاعدہ اجرا کردیا ہے، جو عوامی فلاح کے عزم کا تسلسل اور شہریوں کے لیے علاج کی سہولت فراہم کرنے کا ایک اہم اقدام ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صحت زندگی کی سب سے قیمتی نعمت ہے اور صحت کارڈ کے ذریعے ہر پاکستانی، چاہے وہ غریب، مزدور یا عام آدمی ہو، اپنی دہلیزپرمفت علاج حاصل کرسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اشرافیہ تو بیرون ملک مہنگا علاج کرواسکتی ہے، لیکن عام شہریوں کے لیے علاج ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، اسی لیے یہ پروگرام انتہائی اہمیت کا حامل ہے،وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تھرڈ پارٹی کے ذریعے پروگرام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
سندھ میں صحت کارڈ پروگرام کے اجرا کی تجویز پرغورکیا جائے گا اور وزیراعلیٰ سندھ سے بات کر کے وہاں کے عوام کو بھی یہ سہولت فراہم کرنے کا حل نکالا جائے گا، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں صحت کارڈ پروگرام کامیابی سے جاری ہیں اوراربوں روپے عوام کی صحت پر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

چیف ایگزیکٹو آفیسرمحمد ارشد قائم خانی نے بتایا کہ 2016 میں شروع ہونے والا صحت کارڈ پروگرام اب یونیورسل ہیلتھ کوریج کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
غربت سرویز کے مطابق 66 فیصد افراد صحت کے اخراجات برداشت نہ کرپانے کی وجہ سے خطِ غربت سے نیچے چلے جاتے ہیں جبکہ اس پروگرام کے تحت 600 سے زائد سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں کیش لیس علاج کی سہولت دستیاب ہوگی۔
شناختی کارڈ اور بچوں کے بی فارم کو صحت کارڈ کے طور پراستعمال کیا جا سکے گا اور گلگت کے پہاڑوں سے گوادر کے ساحل تک ہر پاکستانی کو مفت علاج کی سہولت حاصل ہوگی۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستقل رہائشی صحت کی مفت سہولیات سے مستفید ہوں گے اور تقریباً ایک کروڑ آبادی کو یہ سہولت میسر ہوگی۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایک کروڑ تیس لاکھ پاکستانی بیماریوں کے باعث خطِ غربت تک پہنچ چکے ہیں، لیکن اب کسی غریب کو اپنے خاندان کے علاج کے لیے دربدر نہیں بھٹکنا پڑے گا۔

وزیر صحت نے کہا کہ وزیرِاعظم پاکستان کی قیادت میں اب کوئی ماں علاج کے اخراجات کے خوف میں مبتلا نہیں ہوگی، چاہے ایمرجنسی ہو یا بڑا آپریشن، ہر مریض کو عزت اور سہولت کے ساتھ مفت علاج فراہم کیا جائے گا۔
وزیر صحت نے کہا کہ صحت کا نظام اب تک صرف “سِک کیئر” تک محدود رہا ہے، لیکن اب اس نظام کو حقیقی ہیلتھ کیئر سسٹم بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں تاکہ صرف علاج ہی نہیں بلکہ بیماری سے بچاؤ بھی یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے سندھ کے لیے بھی 10 اضلاع میں صحت کارڈ کی سہولت کی درخواست کی، جس پر وزیراعظم نے کہا کہ اس حوالے سے صوبائی وزیراعلیٰ سے بات کی جائے گی تاکہ کراچی سمیت دیگر شہروں کے شہری بھی اس پروگرام سے مستفید ہوسکیں۔
اس پروگرام کے نفاذ سے پاکستان کے شہری صحت کی بنیادی سہولت سے محروم نہیں رہیں گے اور ہر طبقے کو جدید اور مفت علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی، جس سے ملکی صحت کے شعبے میں شفافیت اور مساوات کو فروغ حاصل ہوگا۔
