وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے دو روز قبل لائیو ٹی وی شو کے دوران پیش آنے والے واقعے سے متعلق تفصیلی وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک نجی خاندانی لمحے کو سیاسی رنگ دے کر ریاستی اداروں کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے میں تبدیل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے جو سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی ہے۔
احسن اقبال کے مطابق وہ ایک نجی ٹی وی چینل کے لائیو شو میں شریک تھے کہ اسی دوران ان کے دو بیٹے ویڈیو گیم کھیلتے ہوئے آپس میں الجھ پڑے۔ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کے والد لائیو نشریات میں ہیں۔ تکرار کے دوران دونوں بچے کمرے میں آ گئے جس کے باعث پروگرام کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا۔
احسن اقبال نے بتایا کہ تقریباً پانچ منٹ بعد شو دوبارہ شروع ہو گیا اور بعد میں بچوں کو معلوم ہوا کہ وہ لائیو شو میں تھے، جس پر وہ فوراً خاموش ہو گئے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس سادہ اور نجی واقعے کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جان بوجھ کر غلط رنگ دیا اور اسے افواجِ پاکستان سمیت ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کی پرانی روش ہے کہ نجی معاملات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
احسن اقبال نے یاد دلایا کہ 2018 میں بھی ان کے خلاف اسی نوعیت کی مذموم مہم چلائی گئی تھی جس کے نتیجے میں انہیں نارووال میں انتخابی مہم کے دوران گولی کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ واقعہ بھی نفرت انگیز پروپیگنڈے کا نتیجہ تھا۔
وفاقی وزیر نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک بعض سیاسی عناصر نے بھی اس واقعے کو ایک ریاستی ادارے سے جوڑنے کی کوشش کی، جو کہ حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عوام سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین کرنے کے بجائے اصل حقائق کو مدنظر رکھیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، اور ایسے ہتھکنڈوں کو ناکام بنایا جانا چاہیے۔
