چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ مئی میں افواج پاکستان نے بھارت کوتاریخی شکست دی،یہ جیت یقیناً پورے پاکستان کی جیت ہے،اس جیت کے بعد پاکستان کو دنیا بھر میں قبولیت ملی،گڑھی خدابخش کی قربانیوں کے بغیر یہ جیت ناممکن ہوتی۔
گڑھی خدا بخش میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قاتلوں اور دہشتگردوں کیلئے سب سے بڑا جواب آپ کی موجودگی ہے ،ہر سال پاکستان کے چاروں صوبوں سے یہاں بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں،یہاں سے پوری دنیا کو پیغام ہے کہ کل بھی بی بی زندہ تھیں آج بھی زندہ ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری سے سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے رہنماؤں کی ملاقات
آپ کی اس محبت اور ساتھ دینے پر ہم سب شکر گزار ہیں، اسی ساتھ اور محبت سے ہمیں طاقت ملتی ہے،اسی طاقت سے اسلام آباد میں آپ کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی دی،گڑھی خدا بخش کی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان ایٹمی طاقت بنا،شہید بی بی کی وجہ سے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی ملی،صدر مملکت نے چین سے وہ ہوائی جہاز منگوائے تھے جنہوں نے بھارت کے جہاز گرائے۔
پاکستان اور چین کی دوستی کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی ،صدر زرداری نے سی پیک کی بنیاد رکھ کر پاک چین دوستی کو مزید مضبوط کیا،پاکستان کی جیت ابھی تک بھارت ہضم نہیں کرسکا،پاکستان کے فیلڈ مارشل کا نام سنتے ہی مودی چھپ جاتا ہے۔
بھارت کیخلاف جیت پورے پاکستان کی جیت ہے،پیپلز پارٹی عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے، دنیا کے بڑے بڑے فورمز پر بھارتی وزیراعظم پاکستان کیخلاف تقریریں کرتے تھے،10مئی کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی غائب ہوچکے ہیں،معرکہ حق میں شاندار کامیابی پر پورے پاکستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے اندرونی مسائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں،ملک میں سیاسی بحران بھی ہے،ہم ان بحرانوں سے مقابلہ کرکے پاکستان کو مسائل سے نکالیں گے۔
پارلیمان نے اس سال 27ویں آئینی ترمیم بھی منظور کی،این ایف سی کے آئینی تحفظ کے حوالے سےحکومت کی تجویز تھی ،27ویں ترمیم میں متنازعہ تجاویز کو ہم نے مسترد کیا جو ہماری بڑی کامیابی ہے۔
مریم نواز کا بلاول بھٹو کے دورہ پنجاب پر خوش آمدیدی پیغام
سیاسی میدان میں پیپلز پارٹی نے صوبوں کے حقوق کا تحفظ کیا ،این ایف سی کے آئینی تحفظ کو بھی پیپلزپارٹی نے بچایا،آئینی عدالت کاقیام شہید بے نظیر بھٹو کا وعدہ تھا،آئینی عدالت میں تمام صوبوں سے برابری کی نمائندگی ہوگی۔
پیپلز پارٹی وفاق پرست سیاسی جماعت ہے،شہیدبے نظیر بھٹو چاروں صوبوں کی زنجیر تھیں،پیپلز پارٹی ہمیشہ چاروں صوبوں اور وفاق کے بارے میں سنجیدگی کیساتھ سیاست کرتی ہے،سمجھتے ہیں وفاق کے مسائل ہمارے مسائل، وفاق کی پریشانیاں ہماری پریشانیاں ہیں،ہم بھی چاہتے ہیں کہ وفاق کی پریشانیاں دور ہوں۔
بی آئی ایس پی پیپلز پارٹی کا منصوبہ ہے،ہمارا عزم ہے کہ وفاق کے ساتھ مل کر ملک کی معاشی پریشانیاں دور کریں،پارلیمنٹ نے بہت سی ترامیم مظور کی ہیں ،پیپلز پارٹی ملک کیخلاف ہر سازش کو ناکام بنائے گی،پیپلز پارٹی کے پاس ہی عوام کو ان مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کے دور میں مشکلات تھیں،مہنگائی کا سلسلہ تیز ہو چکا تھا،موجودہ حکومت میں مہنگائی کی صورتحال پی ٹی آئی دور سے بہتر ہوچکی ہے۔
پیپلز پارٹی کی اپنی سیاست اورتاریخ ہے،صوبوں کی خودمختاری اور حقوق کاتحفظ کرتے ہوئے وفاق کے مسائل حل کریں گے۔صوبوں سےاختیار چھیننے کے بجائےصوبوں کو مزید ذمہ داریاں دی جائیں،ہم مزید ذمہ داریاں اٹھانے کیلئے تیار ہیں تاکہ معیشت کو مضبوط کرسکیں،ٹیکس کے حوالے سے صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دیں ،ہم ایف بی آر سے بہتر ٹیکس جمع کرکے معاشی بحران کو دور کریں گے۔
فیض حمید طاقت کے نشے میں اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے رہے، بلاول بھٹو
وفاق دوسروں کو الزام لگانے کا موقع نہ دے،ہم آپ کے ساتھ مل کر معاشی بحران دور کرنا چاہتے ہیں،سندھ کے شعبہ صحت کا مقابلہ کسی دوسرے صوبے سے نہیں ، دنیا سے ہے، گمبٹ میں ہر قسم کی بیماری کا علاج میسر ہے۔
حال ہی میں سیلاب آیا تو زرعی شعبہ کافی مشکل میں تھا، پسماندہ علاقوں کا حق ہے کہ وہاں معیاری علاج کی سہولت میسر ہو،ہم نے سندھ میں عالمی سطح کا صحت کے نظام کا جال بچھایا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا معاشی بحران ختم کرنے کیلئے صوبوں کو مزید ذمہ داریاں دی جائیں،وفاق کو حیسکو،سیپکو جیسے اداروں کا بوجھ اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہئے،پیپلز پارٹی وفاق کے ساتھ مل کر مسائل کا حل نکالے گی،ہم سب کو مل کر پاکستان کی معاشی مشکلات کو دور کرنا چاہئے۔
وفاقی حکومت کہہ رہی ہے کہ معیشت ترقی کررہی ہے،ملک کو ڈیفالٹ ہونے سےبچایا گیا،کیا کریں عوام تو حکومت کے دعوے کو نہیں مانتے۔عوام ہم سے پوچھتے ہیں کہ معاشی ترقی ہمیں کب محسوس ہوگی۔
پاکستان کا عام آدمی آج تک معاشی بحران سے گزررہا ہے،آج عام آدمی برداشت سےباہرہوتے ہوئے خرچوں سے لڑ رہا ہے،بجلی بل،گیس بل،راشن ،دواسمیت ہر چیز مہنگی ہورہی ہیں،پیپلز پارٹی میں ہی عوام کو مشکلات سے نکالنے کی صلاحیت ہے ،سیاسی بحران سے نکلنے کیلئے آج نہیں تو کل مفاہمت کرنی ہوگی۔
سیاست کو سیاست کے دائرے میں رہنا ہوگا، گالم گلوچ سیاست نہیں، مفاہمت کو کامیاب بنانے کیلئے سیاسی انتہا پسندی کو چھوڑنا ہوگا،آج کل جو سیاسی روش ہے وہ ملک کے نقصان میں ہے،مفاہمت کے بادشاہ ہی ملک کو سیاسی بحران سے نکال سکتے ہیں، صدر آصف علی زرداری ہی سیاسی انتہا پسندی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانا میرا یا میری پارٹی کا مطالبہ نہیں،بلاول بھٹو
صدر زرداری نے بی آئی ایس پی کو شروع کیاجو آج تک چل رہا ہے،بی آئی ایس پی آج بھی غریبوں کیلئے ایک سہارا ہے،بی آئی ایس پی کے ذریعے غریب خواتیں کو مالی امداد ملتی ہے،ہم نے سیلاب کے بعد سندھ میں تاریخی کام شروع کیا ہے،ہم سندھ میں سیلاب سے بے گھرخاندانوں کیلئے20لاکھ گھر بنا رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی20لاکھ خاندانوں کی خدمت کررہی ہے،18ویں ترمیم میں صوبوں کو اختیارات ملے،ہم عالمی سطح کا صحت کا جال سندھ میں بچھائیں گے،ان اسپتالوں میں 100فیصد مفت علاج ہوگا۔
شہید بینظیر بھٹو کو سلام پیش کرتے ہیں، 27دسمبر ہمیں اجتماعی سوگ، غور و فکر اور عزمِ نو کی یاد دہانی کراتا ہے،بینظیر بھٹو محض رہنما نہیں بلکہ جمہوریت کی نڈر آواز اور مظلوموں کی امید تھیں ، بینظیر بھٹو آمریت، انتہاپسندی اور عدم برداشت کیخلاف ناقابل تسخیر علامت تھیں۔
بینظیر بھٹو کی زندگی جرأت اور ہمدردی کا نادر امتزاج تھی، بینظیر بھٹو کا جمہوری پاکستان کا ویژن آج بھی خواتین اور نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے،بینظیر بھٹو کا ویژن ہماری رہنمائی اور انکی جرأت ہماری دائمی ذمہ داری ہے۔
