لاہور، صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا ہے کہ لاہور میں صرف تین دن کے لیے بسنت منانے کی اجازت دی جائے گی، تاہم اس دوران سخت حفاظتی اور قانونی ضوابط لاگو ہوں گے۔
وزیر اطلاعات کے مطابق حکومت نے مینوفیکچررزکو مخصوص معیار کے مطابق پتنگ اورڈور تیار کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ پتنگ کا ایک سائزمقررکردیا گیا ہے اس سے بڑی پتنگ تیاریا فروخت نہیں کی جا سکے گی۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ پتنگ اور ڈور صرف مخصوص پوائنٹس پر دستیاب ہوں گی، انہیں ہرجگہ فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، اس اقدام کا مقصد غیر قانونی سرگرمیوں اورخطرناک مواد کے استعمال کو روکنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹریفک اور ٹرانسپورٹ محکموں سے مکمل پلان طلب کرلیا گیا ہے تاکہ بسنت کے دوران شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
بھارت نے ائیربیس پر حملہ کر کے سپر غلطی کی پاک فوج نےاس کا غرور خاک میں ملا دیا، اسحاق ڈار
وزیر اطلاعات کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ ان تین دنوں کے دوران لوگ کم سے کم موٹر سائیکل استعمال کریں جبکہ کچھ حساس علاقوں میں موٹر سائیکلوں کے داخلے پرمکمل پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے، بسنت کے موقع پرعام تعطیل کا فیصلہ بھی جلد کیا جائے گا۔
عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ جو افراد طے شدہ قوانین پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی بچہ پتنگ اڑاتے ہوئے پایا گیا تو اس کے والدین کو جوابدہ ہونا پڑے گا، اور قانون کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
