معروف یویٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی اہلیہ سے مبینہ رشوت لینے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آ گئی ہے۔
ایف آئی اے سنٹرل کورٹ لاہور نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے نامزد افسران کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں، جبکہ عدالت میں ملزمان پر عائد الزامات سے متعلق مختلف قانونی نکات بھی سامنے آئے ہیں۔
سماعت کے دوران بتایا گیا کہ ملزمان پر 90 لاکھ روپے رشوت لینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، تاہم تفتیش کے دوران 4 کروڑ روپے کی ریکوری کی گئی۔
ملزمان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ اس ریکوری کا رشوت کے الزام سے کوئی براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
دفاع کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ملزمان اس کیس میں رشوت لینے میں ملوث نہیں ہیں اور ان پر جو مقدمہ منتھلی لینے کے الزام میں درج کیا گیا، اس میں اب تک کوئی متاثرہ شخص سامنے نہیں آیا۔
وکلا کے مطابق مقدمہ محض الزامات پر مبنی ہے، جسے شواہد کے ذریعے ثابت نہیں کیا جا سکا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد این سی سی آئی اے افسران کی ضمانتیں منظور کرتے ہوئے انہیں رہائی کا حکم دے دیا۔
