امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن نے وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان کی نئی تصاویر جاری کیے جانے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت انہیں جیفری ایپسٹین کیس میں جان بوجھ کر قربانی کا بکرا بنا رہی ہے۔
بل کلنٹن کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ یہ اقدام حقیقت سامنے لانے کے بجائے توجہ ہٹانے کی ایک کوشش ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت چاہے جتنی مرضی 20 سال پرانی اور غیر واضح تصاویر جاری کر دے، اصل معاملہ بل کلنٹن کا نہیں ہے۔ یہ کیس کبھی بھی بل کلنٹن کے بارے میں نہیں تھا اور نہ ہی کبھی ہوگا۔
بل کلنٹن کے ترجمان نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں شامل سوزی وائلز بھی اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ ٹرمپ بل کلنٹن کے حوالے سے غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کے بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سیاسی مقاصد کے لیے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ادھر بل کلنٹن کے نمائندے اینجل اورینا نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ مبینہ تعلقات سے متعلق زیر زمین باتھ ٹب میں لی گئی تصاویر پر بھی وضاحت دی۔ ان کا کہنا تھا، یہاں دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جنہیں ایپسٹین کے جرائم کا علم نہیں تھا اور جنہوں نے سچ سامنے آنے سے پہلے ہی اس سے تعلق ختم کر دیا۔ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے سب کچھ جاننے کے باوجود اس سے تعلقات برقرار رکھے۔ ہم پہلے گروہ میں شامل ہیں۔
اینجل اورینا نے مزید کہا کہ دوسرے گروہ کی جانب سے جتنا بھی وقت حاصل کرنے یا بات کو گھمانے کی کوشش کی جائے، حقیقت نہیں بدلے گی۔ ”
بل کلنٹن کے ترجمان کے مطابق، اس پورے معاملے میں اصل سوالات ابھی باقی ہیں اور پرانی تصاویر جاری کر کے ان سے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔
