سعودی عرب کے شمالی علاقوں تبوک اور حائل میں ہونے والی غیر متوقع برفباری نے مقامی آبادی کو خوشی اور حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی دہائیوں بعد دیکھے جانے والے اس نایاب موسم نے صحرائی ملک کے پہاڑی علاقوں کو مکمل طور پر سفید چادر میں ڈھانپ دیا، جس کے بعد شہری بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکل آئے اور برفباری کا لطف اٹھاتے دکھائی دیے۔
عاصفة ثلجية خفيفة تضرب مرتفعات جبل اللوز ظهر اليوم pic.twitter.com/vaA211Ni5h
— أ.د. عبدالله المسند (@ALMISNID) December 17, 2025
اردن کی سرحد کے قریب واقع مشہور پہاڑی علاقہ جَبَل اللوز اس غیر معمولی موسمی تبدیلی کا مرکز بن گیا، جہاں شدید سردی کے ساتھ برفباری کا سلسلہ جاری رہا۔ پہاڑوں کی بلند چوٹیوں پر برف جم جانے کے بعد مناظر کسی یورپی ملک کا منظر پیش کرنے لگے۔ مقامی افراد اور سیاحوں نے برف میں کھیلنے، تصاویر بنانے اور ویڈیوز ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا، جبکہ بعض نوجوان برف پر اسکیئنگ کرتے بھی نظر آئے۔
مغربی ہوائیں ملک میں داخل ہونے کیلئے تیار، بارش اور برفباری کی پیشگوئی
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاندانوں اور دوستوں کے گروپس برف سے ڈھکی وادیوں میں گھوم رہے ہیں، خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور روایتی رقص بھی پیش کر رہے ہیں۔ جَبَل اللوز کی بلندیوں پر لوگ ہنستے، قہقہے لگاتے اور اس غیر معمولی موسم کو یادگار بنا رہے ہیں۔
سعودی میڈیا کے مطابق تبوک اور حائل کے متعدد پہاڑی علاقوں میں برفباری ریکارڈ کی گئی، جبکہ دارالحکومت ریاض کے شمال میں واقع علاقے الغاط میں بھی ہلکی برفباری دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق یہ مناظر سعودی عرب میں شاذ و نادر ہی دیکھنے کو ملتے ہیں، اسی لیے شہریوں میں غیر معمولی جوش و خروش پایا جا رہا ہے۔
مختلف شہروں میں موسم سرد رہے گا ، بعض مقامات پر بارش اور برفباری کا امکان
سعودی نیشنل سینٹر آف میٹیورولوجی نے اس سے قبل شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں نمایاں کمی اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کی پیش گوئی کی تھی۔ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض حصوں میں گہرے کم دباؤ کے نظام کے باعث شدید بارش، ٹھنڈی ہوائیں اور برفباری کا یہ سلسلہ جاری ہے، جبکہ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
