امریکی سینیٹ نے مالی سال 2026 کے لیے 901 ارب ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور کر لیا ہے، جس کے تحت امریکا کی دفاعی پالیسی اور فوجی اخراجات کا تعین کیا گیا ہے۔
نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) 77 کے مقابلے میں 20 ووٹوں سے منظور ہوا، جس کے بعد بل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔
یہ بل ٹرمپ انتظامیہ کی ترجیحات اور کانگریس کی جانب سے امریکی فوجی طاقت برقرار رکھنے کی کوششوں کا امتزاج ہے۔
امریکا کے پاس دباؤ کے حقیقی لیور موجود ہیں جو زمین پر فرق پیدا کر سکتے ہیں، حماس رہنما
قانون کے تحت پینٹاگون کو یورپ میں کم از کم 76 ہزار امریکی فوجی برقرار رکھنا ہوں گے، جب تک نیٹو اتحادیوں سے مشاورت کے بعد کسی کمی کو امریکی قومی مفاد میں قرار نہ دیا جائے۔ اسی طرح جنوبی کوریا میں امریکی فوجیوں کی تعداد 28 ہزار 500 سے کم نہیں کی جا سکے گی۔
کانگریس نے یوکرین کے لیے اپنی حمایت بھی برقرار رکھی ہے، جس کے تحت یوکرین سکیورٹی اسسٹنس انیشی ایٹو کے تحت 800 ملین ڈالر کی منظوری دی گئی ہے، جبکہ آئندہ دو برسوں کے لیے ہر سال 400 ملین ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یوکرین کے لیے اسلحہ سازی پر بھی سالانہ 400 ملین ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔
بل میں ایشیا پیسیفک خطے کو امریکی خارجہ اور دفاعی حکمتِ عملی کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے تائیوان سکیورٹی کوآپریشن انیشی ایٹو کے تحت ایک ارب ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔
اسرائیل کے لیے 600 ملین ڈالر کی سکیورٹی امداد کی منظوری دی گئی ہے، جس میں مشترکہ میزائل دفاعی منصوبے، بشمول آئرن ڈوم، شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی فوجی کارروائیوں پر کانگریس کی نگرانی سخت کرنے کے لیے رپورٹنگ کے تقاضے بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔
قانون سازی کے تحت عراق جنگ (2003) اور خلیجی جنگ (1991) کی فوجی اجازت ناموں کو ختم کر دیا گیا ہے، تاکہ مستقبل میں کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی کارروائی کا امکان کم کیا جا سکے۔
بل میں شام پر عائد امریکی پابندیاں مستقل طور پر ختم کرنے کی شق بھی شامل ہے، جسے سابق صدر بشار الاسد کی معزولی کے بعد تعمیرِ نو میں مدد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تھائی لینڈ کا کمبوڈیا سے لڑائی جاری رکھنے کا اعلان
تاہم، بل میں ٹرمپ انتظامیہ کی ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی کے تحت پینٹاگون میں تنوع، مساوات اور شمولیت (ڈی ای آئی) کے دفاتر اور تربیتی پروگرامز ختم کرنے کا فیصلہ بھی شامل ہے، جس سے تقریباً 40 ملین ڈالر کی بچت متوقع ہے۔
اسی طرح موسمیاتی تبدیلی سے متعلق دفاعی پروگرامز کے لیے مختص 1.6 ارب ڈالر کی کٹوتی بھی کی گئی ہے۔
