وفاقی حکومت نے نیٹ میٹرنگ پراجیکٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے اور اس کی جگہ نیٹ بلنگ نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے باضابطہ طور پر ورکنگ شروع کر دی ہے جبکہ صارفین کے لیے نئے نیٹ بلنگ نظام کی تفصیلات تیار کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارفین اضافی بجلی گرڈ میں شامل کر کے مقررہ نرخ پر ایڈجسٹمنٹ حاصل کرتے تھے، تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ نظام سے پاور سیکٹر پر مالی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ اسی وجہ سے نیٹ بلنگ فارمولہ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فیول ایڈجسٹمنٹ ، بجلی فی یونٹ 72 پیسے سستی ہونے کا امکان
نیپرا نئے نظام کے حوالے سے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت بھی کرے گا، جس کے بعد حتمی قواعد و ضوابط کا اعلان کیا جائے گا۔ امکان ہے کہ یہ نظام نئے سولر صارفین پر لاگو ہوگا۔
ماہرین کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے خاتمے سے گھریلو اور کمرشل سطح پر سولر توانائی کے رجحان میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ سولر انڈسٹری کو بھی دھچکا لگنے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ نیٹ بلنگ سے بجلی کے نرخوں میں توازن اور قومی گرڈ پر بوجھ کم ہوگا۔
ذرائع کے مطابق نیٹ بلنگ نظام کی حتمی منظوری کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا، جس کے بعد اس پر عملدرآمد کا آغاز ہوگا۔ عوام اور سولر صارفین کی نظریں اب نیپرا کے حتمی فیصلے پر مرکوز ہیں۔
