میانمار کی فوجی حکومت نے کہا ہے کہ وہ فوج کے زیرِ اہتمام ہونے والے آئندہ انتخابات میں مبینہ طور پر “خلل ڈالنے” کے الزام میں 200 سے زائد افراد کے خلاف مقدمات چلانے کی تیاری کر رہی ہے، جس پر انسانی حقوق کے اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میانمار کے سرکاری میڈیا کے مطابق وزیرِ داخلہ ٹن ٹن ناؤنگ نے بتایا کہ مجموعی طور پر 229 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے، جن پر انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کا الزام ہے۔
انتخابات میں “رخنہ ڈالنے” سے متعلق قانون کو انسانی حقوق کے نگران اداروں نے متنازع قرار دیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس مبہم قانون کا مقصد اختلافِ رائے کو دبانا اور فوجی حکومت کے ناقدین کو نشانہ بنانا ہے۔
فروری 2021 میں فوجی بغاوت کے بعد سے میانمار میں فوجی حکومت قائم ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور مسلح مزاحمت شروع ہوئی۔ اس عرصے کے دوران ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ متعدد سیاسی جماعتوں کو تحلیل یا سیاسی سرگرمیوں سے روک دیا گیا۔
فوجی حکومت بارہا انتخابات کرانے کا اعلان کر چکی ہے اور اسے جمہوریت کی بحالی کی جانب قدم قرار دیتی ہے، تاہم ناقدین کے مطابق یہ انتخابات فوجی اقتدار کو قانونی جواز دینے کی کوشش ہیں، کیونکہ اپوزیشن قیادت جیلوں میں ہے یا سیاسی عمل سے باہر کر دی گئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ انتخابی قوانین کے تحت وسیع پیمانے پر مقدمات مستقبل کے کسی بھی انتخاب کی شفافیت اور ساکھ پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔
