وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت جاری اصلاحات کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز میں شامل اقدامات کوئی نئی شرائط نہیں۔
وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف کے اہم کنٹری پالیسی فریم ورک میں کوئی نئی چیز شامل نہیں کی گئی، پروگرام میں شامل اقدامات طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے کا تسلسل ہیں، جنہیں مرحلہ وار نافذ کیا جا رہا ہے۔
آئی ایم ایف نے سرکاری ملازمین کے اثاثے ظاہر کرنے کا مطالبہ کر دیا، وزیر خزانہ
اعلامیے میں کہا گیا کہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی ایک طے شدہ درمیانی مدت کی اصلاحاتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں شامل متعدد اصلاحات پر حکومت پہلے ہی عملدرآمد کر رہی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق سرکاری ملازمین کے اثاثہ جات کے گوشواروں کی اشاعت کا معاملہ مئی 2024 سے ای ایف ایف میں شامل تھا، جبکہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم کے بعد موجودہ ساختی ہدف ایک منطقی پیش رفت ہے۔
