سینئر وزیرسندھ حکومت شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ بھارتی فلم دھریندر(dhurandhar) پاکستان، خاص طور پر لیاری کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی ایک اور مثال ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں انہوں نے کہا لیاری تشدد نہیں بلکہ ثقافت، امن، صلاحیت اور حوصلے کی علامت ہے۔
Indian movie Dhurandhar is yet another example of negative propaganda by the Indian film industry against Pakistan, especially targeting Lyari. Lyari is not violence—it is culture, peace, talent, and resilience. Next month Mera Lyari will release, showing the true face of Lyari:… pic.twitter.com/v2FsVMfWsB
— Sharjeel Inam Memon (@sharjeelinam) December 13, 2025
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا ہے کہ اگلے مہینے ریلیز ہونے والی فلم ’’میرا لیاری‘‘ لیاری کا حقیقی چہرہ دکھائے گی۔فلم میں امن، خوش حالی اور فخر کی جھلک نظر آئے گی۔
دوسری جانب سندھ پولیس کے شہید افسر چوہدری اسلم کی بیوہ نورین اسلم نے بالی ووڈ فلم دھریندر میں اپنے شوہر کے کردار کی منفی عکاسی پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے فلم سازوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے نورین اسلم نے کہا کہ فلم میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو شامل کیا گیا، جس کی وجہ سے نہ صرف میرے شوہر کی خدمات کی غلط تصویر پیش کی جا رہی ہے بلکہ پاکستان کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
پاکستان مخالف بھارتی فلم ’دھریندر‘ کے خلاف عدالت میں درخواست دائر
نورین نے سوال اٹھایا کہ فلم میں لیاری کے علاقے کو کیوں منتخب کیا گیا اور رحمان ڈکیت کے کردار کو کیوں بڑھا چڑھا کر دکھایا جا رہا ہے، جبکہ ان کے مطابق اصل میں چوہدری اسلم نے خطرناک دہشت گردوں کے خلاف اپنی زندگی وقف کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے منفی مناظرات اور پروپیگنڈا شہید افسر کی یاد اور خدمات کے منافی ہیں، اگر میرے شوہر کے کردار کے بارے میں کوئی غلط بیانیہ یا منفی پہلو شامل کیا گیا، تو میں عالمی قوانین کے تحت فلم کے ڈائریکٹرز اور اسکرین رائٹرز کے خلاف کارروائی کروں گی۔
انہوں نے کہا کہ چوہدری اسلم کی بہادری اور وطن کے لیے خدمات کو پوری دنیا میں سراہا جاتا ہے، فلم کے ذریعے اسے غلط تناظر میں پیش کرنا ناقابل قبول ہے۔
