لاہور، احتساب عدالت لاہور نے گجرات کے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن اور کک بیکس سے متعلق ریفرنس میں مالِ مقدمہ کے طور پر قبضہ میں لی گئی دو گاڑیوں کی سپرداری کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔
یہ ریفرنس سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی سمیت متعدد ملزمان کے خلاف دائر ہے، احتساب عدالت کے جج رانا عارف خان نے محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا، جس میں گاڑیوں کی حوالگی کیلئے دائردرخواستوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔
سپرداری کی یہ درخواستیں اسد محمود اورمحمد عمران کی جانب سے دائرکی گئی تھیں، جن کا مؤقف تھا کہ گاڑیاں ملزمان کی گرفتاری کے وقت نیب نے قبضے میں لی تھیں جبکہ متعلقہ ملزمان کی ضمانت بھی ہو چکی ہے، لہٰذا انہیں گاڑیاں واپس سپرداری پردیدی جائیں۔
درخواست گزاروں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ گاڑیوں میں سے ایک خالد محمود چھٹہ کی گرفتاری کے وقت سے نیب کے پاس ہے، جس کی حوالگی میں قانونی رکاوٹ نہیں۔
لاہور ہائیکورٹ نے کم از کم تنخواہ ایک ہزار ڈالر کرنے کی درخواست مسترد کردی
تاہم نیب پراسیکیوٹرنےعدالت کوبتایا کہ دونوں گاڑیاں ریفرنس کا حصہ ہیں اورمالِ مقدمہ کے طور پران کا ریکارڈ میں محفوظ رہنا ضروری ہے، لہٰذا گاڑیاں نیب کی تحویل میں ہی رہنی چاہئیں۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواستیں مسترد کرتے ہوئے قراردیا کہ گاڑیوں کی سپرداری ممکن نہیں کیونکہ یہ اب بھی ریفرنس کا حصہ ہیں بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 6 جنوری تک ملتوی کردی۔
