تہران: ایران کی کرنسی ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی 12 ہزار 50 ہزار ریال تک گر گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایران کی معیشت ایک بار پھر شدید دباؤ کا شکار ہو گئی۔ ایرانی ریال نے اوپن مارکیٹ میں اپنی تاریخ کی کم ترین قدر ریکارڈ کر لی۔
ایک امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قیمت تقریباً 12 لاکھ 50 ہزار تک گر گئی۔
ماہرین کے مطابق 2018 میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سے ریال مسلسل تنزلی کا شکار ہے۔ پابندیوں کے آغاز پر ایک ڈالر 55 ہزار ریال کے برابر تھا تاہم اب ایرانی کرنسی کی قدر میں گراوٹ خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکومت کی حالیہ اقتصادی لبرلائزیشن پالیسی اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی طلب نے ریال پر پڑنے والے دباؤ کو مزید شدید کر دیا ہے۔شہری روزمرہ ضروریات اور بچت کے تحفظ کے لیے غیر ملکی کرنسی خرید رہے ہیں۔
ایرانی حکومت نے درآمد کنندگان کو اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدنے کی اجازت دے دی۔ تاکہ ضروری اشیا کی درآمد ممکن ہو سکے۔ اس فیصلے کے بعد ڈالر کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہوا اور ریال مزید کمزور ہو گیا۔
عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ ایران کی معیشت آئندہ سالوں میں مزید گراوٹ کا شکار ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امیگریشن کریک ڈاؤن پالیسی ، امریکا نے مزید 55 ایرانی شہریوں کو بیدخل کر دیا
ماہرین کے مطابق اگر کرنسی بحران، مہنگائی اور پابندیاں اسی رفتار سے قائم رہیں۔ تو ایران گہری کساد بازاری، بلند مہنگائی اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر سکتا ہے۔
