سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن(Shakib-Al-Hasan) نے ایک سال بعد حیران کن طور پر ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس سے اپنی ریٹائرمنٹ واپس لیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ دوبارہ تینوں فارمیٹس میں ملک کی نمائندگی کرنا چاہتے ہیں۔
کرک انفو کے مطابق شکیب نے یہ انکشاف ’’بیئرڈ بِفور وکٹ‘‘ پوڈکاسٹ میں کیا، جہاں ان کے ساتھ انگلش آل راؤنڈرمعین علی بھی موجود تھے۔
1992 کا ورلڈ کپ فائنل کھیلنے والے معروف کرکٹر انتقال کر گئے
شکیب الحسن کا کہنا تھا کہ وہ باضابطہ طور پر کسی بھی فارمیٹ سے ریٹائر نہیں ہوئے اور اب ان کی خواہش ہے کہ وہ بنگلہ دیش واپس جا کر ایک مکمل ہوم سیریز کھیلیں اور پھر کرکٹ کو باعزت انداز میں خیرباد کہیں۔
شکیب نے کہا:
“میری خواہش ہے کہ ایک ہی سیریز میں ٹی ٹوئنٹی، ون ڈے اور ٹیسٹ کھیل کر ریٹائر ہو جاؤں۔ ترتیب چاہے جو ہو، لیکن چاہتا ہوں کہ شائقین کے سامنے آخری مرتبہ کھیلوں اور انہیں الوداع کہوں۔”
سابق کپتان نے مئی 2024 کے بعد وطن واپسی نہیں کی۔ 5 اگست کو عوامی لیگ کی حکومت کے خاتمے اور سیاسی کشیدگی کے دوران ان کا نام ایک ایف آئی آر میں شامل ہوا تھا، جس کے بعد وہ بیرونِ ملک تھے۔ تاہم شکیب پاکستان اور بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شریک ہوئے۔ بھارت کے شہر کانپور میں کھیلا گیا دوسرا ٹیسٹ ان کا آخری انٹرنیشنل میچ ثابت ہوا۔
سینئر کرکٹر دل کا جان لیوا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کرگئے
پوڈکاسٹ میں شکیب نے وطن واپسی کے سوال پر امید ظاہر کی اور کہا کہ اسی مقصد کے لیے دنیا بھر کی لیگز کھیل رہے ہیں تاکہ کھیل میں واپسی کی راہ ہموار ہو سکے۔
گزشتہ سال جنوبی افریقا کے خلاف ہوم سیریز سے قبل انہوں نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا، جبکہ اپنے آخری ٹیسٹ کی خواہش بھی ظاہر کی تھی، تاہم ڈھاکا میں احتجاجی صورتحال کے باعث انہیں سیریز سے ڈراپ کر دیا گیا۔
ایک موقع پر حکومت کے اسپورٹس ایڈوائزر نے شکیب کے سیاسی بیانات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ قومی ٹیم میں واپسی کے اہل نہیں، مگر بعد ازاں بورڈ کے کچھ عہدیداران نے ان کے لیے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا۔
بنگلہ دیش کے مشفیق الرحیم 100 ویں ٹیسٹ میں سنچری کرنیوالے دنیا کے 11 ویں کرکٹر بن گئے
اپنی مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے شکیب نے کہا کہ کرکٹ میں اپنا حصہ ڈال چکے ہیں اور اب سیاست میں بھی لوگوں کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔
“میری نیت بنگلہ دیش کے عوام اور اپنے علاقے ماغورا کے لوگوں کے لیے کچھ کرنے کی ہے۔ دیکھتے ہیں اللہ کہاں لے کر جاتا ہے۔”
