پیرو میں بلدیاتی کرپشن کو بے نقاب کرنے والے صحافی فرنینڈو نونیز کو نامعلوم قاتلوں نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔
پیرو کی قومی انجمن برائے صحافیوں کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر ایک اسائنمنٹ سے واپس آ رہے تھے۔
نیشنل ایسوسی ایشن آف جرنلسٹس نے بتایا کہ فرنینڈو نونیز ڈیجیٹل چینل ‘کمیلا ٹی وی’ سے وابستہ تھے اور ہفتے کے روز قاتلوں کے حملے میں موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ ان کا بھائی شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔
رپورٹ کے مطابق نونیز رواں سال 2025 میں منظم جرائم کے ہاتھوں قتل ہونے والے تیسرے صحافی ہیں۔ اس سے قبل گیسٹن مدینا اور راؤل سیلس بھی قتل کیے جا چکے ہیں۔ صحافیوں کی تنظیم نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات میں نونیز کی صحافتی سرگرمیوں کو اس قتل کی بنیادی وجہ کے طور پر دیکھا جائے۔
انجمن کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اظہار رائے اور معلومات فراہم کرنے والوں کے خلاف تشدد میں خطرناک اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ ہر قتل نہ صرف صحافت پر حملہ ہے بلکہ جمہوریت اور عوام کے حقِ معلومات پر بھی براہ راست ضرب ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پیرو میں 2025 کے اکتوبر تک 1888 قتل کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق منظم جرائم، بھتہ خوری، غربت، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام نے ملک میں جرائم کی لہر کو مزید تیز کر دیا ہے۔
