وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ملاقات اور سہولیات کے حوالے سے وضاحت پیش کی ہے۔
اعظم نذیر تارڑ اوراعظم نذیر تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے چھ ماہ لگے تاہم جیل قوانین واضح کرتے ہیں کہ سیاسی ملاقاتیں کسی بھی قیدی کے لیے ممکن نہیں۔
عطا تارڑ نے انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزایافتہ ہیں اور ان کی جیل میں تمام سہولیات تاریخ میں کسی کو میسر نہیں آئیں، بانی پی ٹی آئی اورعظمیٰ خان کے درمیان سیاسی بات چیت ہوئی تاہم آج کے بعد عظمیٰ خان کی ملاقات پر پابندی ہوگی۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر ہاوس کے باہر موجود تھیں اور جیل کے باہر قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ جیل کے اندر بیٹھ کر بھی کچھ افراد ریاست کا تختہ الٹنے کی باتیں کررہے ہیں اور ذاتی مفادات کی خاطرملک کونقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نوازشریف کی ہدایت پر گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کی منظوری
عطا تارڑ نے زور دیا کہ یہ قیدی سب سے مراعات یافتہ ہے اوراس پرسب سہولیات فراہم کی گئی ہیں لیکن جو بھی قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اس کی ملاقات پر پابندی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اڈیالہ جیل کے باہر امن وامان برقرار رکھنے کے لیے ریاست نے فیصلہ کیا ہے کہ آہنی ہاتھوں سے کارروائی ہوگی، تاکہ جیل کے باہر روزانہ کا تماشہ ختم کیا جا سکے۔
وزیرقانون نے کہا قانون کے مطابق وزیراعظم کی سفارش پر صدرمملکت چیف آف ڈیفنس کی تعیناتی کریں گے، قانون کے مطابق جو بھی آرمی چیف ہوں گے وہ بیک وقت چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ نوٹیفکیشن سے متعلق قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے، چیف آف ڈیفنس فورسزکی تعیناتی سےمتعلق وزارت دفاع کام کررہی ہے، چیف آف ڈیفنس فورسزکی تعیناتی میں کوئی ابہام نہیں۔
