وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے تاہم پولیس نے انہیں جیل جانے سے روک دیا۔
اڈیالہ جیل کے قریب داہگل ناکے پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ این ایف سی اجلاس کے فوراً بعد بغیر میڈیا ٹاک کیے سیدھا راولپنڈی پہنچے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کیا اور واضح کیا کہ 25ویں آئینی ترمیم کے تحت قبائلی اضلاع کو صوبے میں ضم کیا گیا، لیکن ان کا مالی شیئر تاحال صوبے کو نہیں دیا گیا۔
پنجاب حکومت کا بچوں کو اسمارٹ کارڈ، موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ اجلاس میں یہ مؤقف رکھا کہ خیبر پختونخوا کے آئینی حق سے انحراف غیر آئینی عمل ہے، 8 دسمبر تک سب کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے جبکہ این ایف سی کا اگلا اجلاس جنوری کے وسط میں ہو گا جہاں وہ دوبارہ یہ معاملہ اٹھائیں گے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے باعث خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہوا، اس کے باوجود باقی تینوں صوبوں کو ان کا حصہ مل رہا ہے جبکہ کے پی کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاق نے یقین دہانی کرائی ہے کہ صوبے کو اس کا حق ملے گا۔
