امریکی محکمۂ انصاف نے نیویارک سٹی میں تعینات 8 امیگریشن ججوں کو برطرف کر دیا ہے۔
اس فیصلے کی صدیق امیگریشن ججز کی نمائندہ تنظیم نیشنل ایسوسی ایشن آف امیگریشن ججز (NAIJ) نے کی ہے۔
یہ تمام جج مین ہٹن میں 26 فیڈرل پلازا کی عمارت میں کام کرتے تھے، جہاں تارکینِ وطن کے قانونی اسٹیٹس سے متعلق مقدمات کی سماعت ہوتی ہے۔
26 فیڈرل پلازا طویل عرصے سے ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کی علامت بنا ہوا ہے، جہاں مہینوں سے ماسک پہنے وفاقی اہلکار روزانہ کی بنیاد پر عدالت سے نکلنے والے تارکینِ وطن کو حراست میں لیتے رہے ہیں۔
Footage taken by @Steffikeith this morning of ICE agents shoving photographers on assignment at 26 Federal Plaza. One journalist has been hospitalized. pic.twitter.com/sOo6XAMWJP
— Molly Crane-Newman (@molcranenewman) September 30, 2025
ایسے مناظر، جن میں مہاجر خاندان جدا ہوتے دکھائی دیے، عالمی سطح پر وائرل ہوتے رہتے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس اور NAIJ کے مطابق ان ججوں کی برطرفی کی وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔
تاہم نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق رواں برس ملک بھر میں تقریباً 600 میں سے 90 امیگریشن جج برطرف کیے گئے ہیں۔
مہاجرین کے حقوق کیلئے کام کرنے والے گروہوں کا کہنا ہے کہ یہ برطرفیاں اُن ججوں کی جگہ نئے جج تعینات کرنے کی کوشش کا حصہ ہیں جو ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں سے زیادہ ہم آہنگ ہوں۔
برطرفی کا یہ فیصلہ اس واقعے کے چند دن بعد سامنے آیا جب درجنوں افراد نے مین ہٹن میں ایک ممکنہ چھاپے کو روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔
