امریکی انتظامیہ نے 19 غیر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی تمام امیگریشن درخواستیں معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس پابندی میں گرین کارڈ، شہریت اور دیگر امیگریشن عمل شامل ہیں، جن درخواستوں پر کارروائی شروع ہو گئی تھی، انہیں بھی روک دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے اس اقدام کی بنیاد قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کو بتایا ہے۔
یہ 19 ممالک وہی ہیں جن پر جون 2025 میں جزوی سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔
ان ممالک میں افغانستان، صومالیہ، ایران، لیبیا، یمن، میانمار، سوڈان، چاڈ اور دیگر شامل ہیں۔
نئی پالیسی کے تحت ان درخواستوں کو دوبارہ جائزے (re-review) کے عمل سے گزرنا ہوگا، ضرورت پڑنے پر ان افراد کے انٹرویو یا ری انٹرویو کر کے قومی سلامتی اور عوامی تحفظ کے خطرات کا جائزہ لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یواے ای نے پاکستانیوں کو ویزا جاری کرنا بند کردیا، حکومت کی تصدیق
یہ فیصلہ اس واقعے کے بعد کیا گیا ہے جب واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ ہوئی، اور ایک افغان نژاد شخص کو اس حملے کا ملزم قرار دیا گیا۔ مذکورہ واقعے کے تناظر میں انتظامیہ نے قانونی امیگریشن پر سختی کی پالیسی کی طرف پیش قدمی کی ہے۔
امریکی امیگریشن ویزا و پناہ گزینی کے حوالے سے سرگرم وکلاء اور ادارے، جیسے American Immigration Lawyers Association، نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کے مطابق شہریت کے انٹرویوز اور گرین کارڈ کی منظوری کی کارروائیاں منسوخ یا مؤخر کی جا چکی ہیں، جس سے ہزاروں درخواست گزاروں کی زندگیوں اور مستقبل پر غیر یقینی چھا گئی ہے۔
