اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر ایک تیز رفتار وی ایٹ گاڑی کی ٹکر سے اسکوٹی پر سوار 2 خواتین جان بحق ہو گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق حادثہ سیکریٹریٹ چوک پر رات گئے پیش آیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی کی رفتار حد سے زیادہ تھی اور ڈرائیور کا قابو گاڑی پر نہیں رہا۔ دونوں خواتین کو پمز ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔
واقعے کا مقدمہ تھانہ سیکریٹریٹ میں درج کیا گیا ہے۔
حادثے کے فوراً بعد پولیس نے ڈرائیور آصف کو گرفتار کر لیا اور گاڑی کو بھی قبضے میں لے لیا۔
پولیس کے مطابق وقوعے سے قبل ڈرائیور سنیپ چیٹ ویڈیو بنا رہا تھا، لیکن حادثے کے بعد اس نے اپنا موبائل کہیں پھینک دیا۔
ابتدائی طور پر اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ ڈرائیور کم عمر ہے، لیکن ڈرائیور نے بیان میں کہا ہے کہ میں بالغ ہوں اور لائسنس یافتہ ہوں۔
ڈرائیور کے پاس شناختی کارڈ نہ ڈرائیونگ لائسنس
پولیس نے گرفتار ڈرائیور کو عدالت میں پیش کرتے ہوئے 7 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے۔
اپنی درخواست میں پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے لاپرواہی، غفلت اور تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے 2 نوجوان لڑکیوں کی اسکوٹی کو ٹکر ماری۔
عدالت میں جسمانی ریمانڈ کی توجیح پیش کرتے ہوئے پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کے پاس شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں، اس نے موبائل بھی پھینک دیا تھا جس میں حادثے سے قبل بنائی گئی ویڈیو ہے، پھر یہ بھی تعین کرنا ہے کہ وقوعہ کے وقت ملزم اکیلا تھا یا اس کے ساتھ کوئی اور بھی سوار تھا۔
ان چیزوں کی برآمدگی کے علاوہ پولیس نے کہا کہ عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ بھی کرانا ہے لہذا جسمانی ریمانڈ کی منظوری دی جائے۔
