بنگلادیش کی ایک عدالت نے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ اور سابق وزیر تولیپ صدیق کو مبینہ کرپشن کیس میں 2 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ کیس سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں ایک سرکاری پلاٹ کی مبینہ غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق تھا۔
فیصلہ عدم موجودگی میں سنایا گیا، کیونکہ تولیپ صدیق، شیخ حسینہ اور ان کی بہن شیخ ریحانہ تینوں عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق سابق وزیراعظم حسینہ واجد کو اسی مقدمے میں 5 سال جبکہ ان کی بہن ریحانہ کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
دونوں خواتین سمیت 17 ملزمان میں سے بیشتر فیصلہ سنائے جانے کے وقت موجود نہیں تھے۔
استغاثہ کے مطابق تقریباً 13 ہزار 600 مربع فٹ پر مشتمل پلاٹ سیاسی اثر و رسوخ اور اعلیٰ سرکاری افسران سے ملی بھگت کے ذریعے حاصل کیا گیا۔ پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ ملزمان نے وزیراعظم کے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے یہ الاٹمنٹ حاصل کی۔
شیخ حسینہ گزشتہ برس اگست میں حکومت مخالف تحریک کے دوران ملک چھوڑ کر بھارت چلی گئی تھیں۔ ان کو احتجاجی مظاہروں کے دوران ریاستی جبر کے الزامات میں گزشتہ ماہ سزائے موت بھی سنائی گئی تھی، جبکہ گزشتہ ہفتے دیگر کرپشن کیسز میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزائیں دی گئیں۔
تولیپ صدیق نے جنوری میں برطانیہ میں مالیاتی خدمات اور انسدادِ بدعنوانی کی وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جب ان کے حسینہ سے مالی تعلقات پر سوالات اٹھے تھے۔
وہ اس کیس کو سیاسی انتقام اور ’’من گھڑت الزامات‘‘ قرار دیتی رہی ہیں۔
