برازیل میں یونیورسٹی آف ساؤ پاؤلو (USP) اور فیڈرل یونیورسٹی آف الفناس (UNIFAL) کی نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا کہ بچوں کے مقبول پلاسٹک کھلونوں میں زہریلی دھاتوں کی تشویشناک مقدار موجود ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ کھلونے بچوں کی صحت کے لیے خطرہ پیدا کر سکتے ہیں اور فوری حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے۔
تحقیق میں 70 کھلونوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں مقامی اور درآمد شدہ دونوں شامل تھے۔ نتائج کے مطابق 44.3 فیصد کھلونوں میں بیریم کی مقدار مقررہ حد سے 15 گنا زیادہ تھی، بیریم دل اور اعصابی نظام پر برا اثر ڈال سکتا ہے۔
نیپال کے 100 روپے کے نوٹ نے بھارت کی نیندیں اڑا دیں
رپورٹ کے مطابق 32.9 فیصد کھلونوں میں سیسہ حد سے زیادہ پایا گیا، جو بچوں کی دماغی نشوونما اور یادداشت کے لیے نقصان دہ ہے، کرومیم اور اینٹیمونی بھی کچھ کھلونوں میں خطرناک سطح پر موجود تھے۔
محققین کے مطابق اگرچہ دھاتیں بچوں کے منہ میں ڈالنے سے صرف کم مقدار میں نکلتی ہیں، لیکن ان میں موجود مجموعی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ صحت کے لیے خطرہ برقرار رہتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ کچھ کھلونوں میں دھاتوں کی مقدار زیادہ رنگوں یا مینوفیکچرنگ عمل کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل بھی اسی تحقیقاتی گروپ نے کھلونوں میں ہارمون متاثر کرنے والے کیمیکلز جیسے بائیسفینولز اور فیتھلیٹس کی موجودگی کے خطرات پر روشنی ڈالی تھی۔
دنیا بھر میں کتنے بچے اور نوعمر ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا؛ حیران کن تعداد سامنے آگئی
سائنسدانوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ بچوں کے کھلونوں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین، باقاعدہ جانچ اور درآمدی کھلونوں کی سخت نگرانی کریں تاکہ بچوں کی صحت محفوظ رہ سکے۔
