وزارتِ داخلہ کے ایڈیشنل سیکریٹری سلمان چوہدری نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں انکشاف کیا کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری کرنا تقریباً روک دیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت یو اے ای صرف سفارتی اور بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزا جاری کر رہا ہے جبکہ عام پاکستانی پاسپورٹ پر ویزوں کا اجرا نہ ہونے کے برابر ہے۔
سلمان چوہدری کے مطابق سعودی عرب اور یو اے ای نے باضابطہ پابندی عائد نہیں کی، تاہم ویزا پالیسی عملی طور پر سخت ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مکمل پابندی لگا دی گئی تو اسے ہٹوانا مشکل ہوگا۔
سینیٹر سمینا ممتاز زہری، جو کمیٹی کی سربراہ ہیں، نے بھی اس صورتحال کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ یو اے ای کی جانب سے ویزوں میں تعطل کی وجہ ایسے واقعات ہیں جن میں پاکستانی شہری وہاں جاکر جرائم میں ملوث ہوئے۔
یو اے ای میں شہری چار دن کی چھٹیوں سے مستفید ہوں گے
کمیٹی کو بتایا گیا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں سخت جانچ کے بعد بہت کم ویزے جاری کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب اسلام آباد میں یو اے ای کے سفیر سالم الزعابی نے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے ملاقات میں پاکستانیوں کے لیے ویزا سہولت کے نئے اقدامات سے آگاہ کیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق ملاقات میں آن لائن ویزا پروسیسنگ، ای ویزا سسٹم، پاسپورٹ پر اسٹیمپنگ کے بغیر اجازت نامے اور تیز رفتار ڈیٹا لنکجز جیسے اقدامات پر بات چیت ہوئی۔
بیان کے مطابق پاکستان میں قائم نئے یو اے ای ویزا سینٹر میں روزانہ تقریباً پانچ سو ویزے پروسیس کیے جا رہے ہیں، جس سے ویزا جاری کرنے کے عمل میں بہتری کی امید ہے۔
