وفاقی آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے دو فیصلے کالعدم قرار دے دیئے۔
چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے سندھ حکومت کی درخواست پر گندم کے کوٹہ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور دوگل نے کہا کہ جو گائیڈ لائنز سندھ ہائی کورٹ نے دیں ، وہ آئین کے تحت نہیں تھیں ،پالیسی بنانے کا اختیار ایگزیکٹو کا ہے۔
جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ پالیسی ایگزیکٹو بناتی ہے اور اس کا اعلان بھی خود کرتی ہے،دلائل سننے کے بعد عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیا۔
وفاقی آئینی عدالت میں خالی اسامیوں کیلئے نوٹیفکیشن جاری
علاوہ ازیں آئینی عدالت نے انکم ٹیکس سے متعلق کیسز میں سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کا اسٹے آرڈر کالعدم قرار دیتے ہوئے نجی بینک کی درخواست منظور کر لی ہے۔ فیصلہ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سنایا۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے پاس ایسے کیس میں کوئی دائرہ اختیار نہیں تھا اور بینچ قانوناً کوئی آرڈر جاری کرنے کا مجاز نہیں تھا۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ پہلے جب ایسے مقدمات سپریم کورٹ جاتے تھے تو کوئی الگ طریقہ کار نہیں تھا، تاہم 26ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی مقدمات کے لیے واضح طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ “آپ کا کیس آئینی بینچ کے پاس تھا، پھر آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں تھا؟” انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جب مذکورہ آرڈر پاس ہوا تب 26ویں آئینی ترمیم نافذ العمل تھی، جس کے بعد آئینی اور ریگولر مقدمات کے لیے علیحدہ نظام واضح کیا جا چکا تھا۔
ٹرانسفر کیس ، آئینی عدالت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججوں کی درخواست مسترد کر دی
عدالت نے ریمارکس دیے کہ “دائرہ اختیار سے باہر دیا گیا فیصلہ غیر قانونی تصور ہوتا ہے۔” جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ جب قانون میں واضح کردیا گیا کہ آئینی مقدمات آئینی بینچ میں جائیں گے تو ریگولر کیسز متعلقہ ریگولر بینچوں کو ہی بھیجے جانے چاہییں تھے۔
بینچ نے تمام دلائل سننے کے بعد سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کا اسٹے آرڈر کالعدم قرار دے دیا اور نجی بینک کی درخواست منظور کر لی۔
