بنگلادیش میں توشہ خانہ میں تحائف جمع نہ کروانے کے معاملے پر سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے بینک لاکرز سے 13 لاکھ ڈالر مالیت کا سونا ضبط کر لیا گیا۔ یہ سونا تقریباً 10 کلو ہے جس کی پاکستانی کرنسی میں قیمت 37 کروڑ روپے بنتی ہے۔
نیشنل بورڈ آف ریونیو (این بی آر) کے سینٹرل انٹیلی جنس سیل (سی آئی سی) نے شیخ حسینہ کے نام پر رجسٹرڈ دو لاکرز سے سونے کے زیورات اور بسکٹ برآمد کیے۔
سی آئی سی کے مطابق لاکر نمبر 751 اور 753 کھولے گئے جن سے مجموعی طور پر 10 کلو سونا ملا۔ پوری کارروائی بنگلادیش بینک کے قواعد کے مطابق مکمل کی گئی۔
اس سے قبل 17 ستمبر کو خفیہ معلومات کی بنیاد پر آگرانی بینک کی دلکشا شاخ میں چھاپہ مار کر یہ لاکرز سیل کیے گئے تھے۔ حکام کو شبہ تھا کہ ان لاکرز میں ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق سامان موجود ہے۔
عدالت کے حکم پر ان لاکرز کو کھولا گیا، جہاں سے سونے کے بار، سکے اور زیورات برآمد ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق شیخ حسینہ نے اپنے دورِ اقتدار میں ملنے والے چند تحائف ریاستی خزانے میں جمع نہیں کروائے تھے، جس پر یہ کارروائی عمل میں آئی۔ ادھر رواں ماہ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت سنائی ہے۔
17 نومبر کو جسٹس غلام مرتضیٰ مجمدار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 453 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ ٹریبونل کے دیگر ارکان میں جسٹس شفیع العالم محمود اور جج محیط الحق انعام چوہدری شامل تھے۔
پاکستان نے شیخ حسینہ واجد کی سزا کو بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دے دیا
فیصلے کے مطابق لیک ہونے والی ایک کال میں شیخ حسینہ نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دیے تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ انہوں نے طلبہ کے مطالبات سننے کے بجائے حالات کو مزید خراب کیا اور تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی۔ عدالت نے سابق وزیر داخلہ اسدالزماں کمال کو بھی سزائے موت جبکہ سابق آئی جی چوہدری عبداللہ المامون کو پانچ سال قید کی سزا سنائی۔
