یوکرینی حکام کے مطابق روس نے دارالحکومت کیف پر رات گئے شدید حملہ کیا جس میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 9 ہوگئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ متعدد رہائشی عمارتیں اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ حملوں میں نشانہ بنا، جبکہ ڈنیپر دریا کے پار واقع ایک رہائشی عمارت بھی متاثر ہوئی۔
ادھر یوکرین کے وزیرِ خارجہ آندری سیبیہا نے اس حملے کو امریکا کی امن کے لیے جاری کوششوں کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا ’’دہشت گردانہ جواب‘‘ قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن تجاویز کے جواب میں پیوٹن نے یوکرین پر میزائل اور ڈرونز کی بارش کر دی۔‘‘
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ روسی حملے سفارتی رابطوں کے باوجود جاری ہیں اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
