پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آ گئی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق ایک خودکش حملہ آور سنہری مسجد روڈ کی جانب سے پیدل ایف سی ہیڈ کوارٹرز کے مرکزی گیٹ تک پہنچا، خودکش حملہ آور نے چادر اوڑھ رکھی تھی، خودکش بمبار نے مرکزی گیٹ کے ناکے پر خود کو دھماکے سے اڑایا۔
زیارت میں دہشتگردی کا منصوبہ ناکام ، 5 دہشتگرد گرفتار ، بھاری اسلحہ برآمد
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مرکزی گیٹ پر خودکش دھماکے کے نتیجے میں 3 اہلکار موقع پر شہید ہو گئے، دھماکے کے فوری بعد دو حملہ آور سائیڈ گیٹ سے ایف سی ہیڈ کوارٹر میں داخل ہوئے، دونوں خودکش حملہ آوروں کے پاس رائفلز اور ہینڈ گرنیڈ بھی تھے۔
رپورٹ کے مطابق خودکش حملہ آور اندر داخل ہونے کے بعد دائیں جانب موٹر سائیکل اسٹینڈ پر پہنچے، حملہ آوروں نے فائرنگ کی اور جوابی فائرنگ میں مارے گئے۔ ہیڈ کوارٹرز کے اندر داخل ہونے والے دہشتگردوں کو مرکزی گیٹ کے 30 سے 40 میٹر کے اندر ہی مار دیا گیا۔
ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کی شناخت ہو گئی، سیکیورٹی ذرائع
پولیس کی رپورٹ کے مطابق دہشتگردوں کا مقصد لوگوں کو یرغمال بنانا تھا، ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں اعلیٰ افسران بیٹھتے ہیں اور نفری بھی زیادہ ہوتی ہے، ایف سی ہیڈ کوارٹرز میں پریڈ بھی ہو رہی تھی تاہم ایف سی ہیڈ کوارٹرز کو کلیئر کر دیا گیا ہے۔
