سابق ٹیسٹ کرکٹر راشد لطیف نے اپنے حالیہ بیانات پر پاکستان کرکٹ بورڈ اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے معذرت کر لی۔
ایکس سے جاری ضاحتی بیان میں انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد کبھی کسی کھلاڑی، بورڈ عہدیدار یا متعلقہ شخصیت کو کسی معاملے میں ملوث کرنا نہیں تھا۔
راشد لطیف نے سروگیٹ اشتہارات سے متعلق اپنی تشویش کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خدشات صرف حکومتی ہدایات کی ممکنہ خلاف ورزی کے حوالے سے تھے، اور اس میں کسی فرد یا ادارے پر انگلی اٹھانا شامل نہیں تھا۔
انہوں نے زور دیا کہ انہوں نے نہ کبھی دانستہ اور نہ ہی نادانستہ طور پر کسی کو غلط سرگرمی کا حصہ قرار دینے کا ارادہ رکھا۔
I write with reference to my recent comments made on social media and in interviews concerning surrogate advertising. My principal contention was related to potential violations of the advisories upon such advertising issued by the Government of Pakistan. At no point, whether…
— Rashid Latif | 🇵🇰 (@iRashidLatif68) November 22, 2025
انہوں نے محمد رضوان کی کپتانی سے ہٹائے جانے پر اپنے بیان کو بھی غلط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ رضوان کی فلسطین حمایت کو اس فیصلے کی وجہ قرار دینا نامناسب، بے بنیاد اور کسی بھی معتبر ثبوت سے محروم تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یہ اندازہ غلط اور غیر مناسب تھا۔
سابق کرکٹر راشد لطیف کے خلاف سائبر کرائم ایجنسی کی تحقیقات شروع
راشد لطیف نے کہا کہ اگر ان کے کسی بھی تبصرے سے کسی فرد یا ادارے کو تکلیف پہنچی ہے تو انہیں اس پر افسوس ہے۔ انہوں نے اپنے تمام بیانات غیر مشروط طور پر واپس لیتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ان کا ہر تبصرہ حقائق پر مبنی اور ذمہ دارانہ ہوگا۔
اپنی وضاحت کے دوران سابق کپتان نے کہا کہ پاکستان کا وقار ان کے لیے سب سے بڑھ کر ہے اور وہ کبھی بھی ایسا کوئی عمل نہیں کریں گے جس سے ملک کی عزت کو نقصان پہنچے۔
