برازیل کے شہر بیلم میں جاری COP30 موسمیاتی سمٹ میں جمعرات کو اچانک لگنے والی آگ نے ہنگامی صورتحال پیدا کر دی، جس کے باعث پورے کانفرنس سینٹرکو فوری طور پر خالی کرایا گیا۔ حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
ماحولیاتی تبدیلی زلزلوں کا باعث بن سکتی ہے، نئی سائنسی تحقیق
میڈیا رپورٹس کے مطابق جیسے ہی سائرن بجا، مندوبین، مبصرین اور صحافی اپنے کاغذات اور سامان سمیٹ کر ہال سے باہر نکلنے لگے جبکہ پولیس نے متاثرہ حصے کے قریب جانے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔
برازیل کے وزیرِ سیاحت نے میڈیا سے گفتگو میں تصدیق کی کہ آگ مکمل طور پر کنٹرول میں ہے، مگر انہوں نے بتایا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ شرکا آج یا جمعے کے روز مذاکراتی ہال میں واپس آسکیں گے یا نہیں۔
سمٹ کے منتظمین نے بھی آگ پر قابو پانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ فائر ڈیپارٹمنٹ نے حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر پورے مقام کا انخلاء لازمی قرار دیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے موسمیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ فائر سروس اب مکمل سیکیورٹی چیک کر رہی ہے، جس کے بعد مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔
ٹی وی فوٹیج میں کانفرنس سینٹر کے اندر سے شعلے اور دھواں اٹھتے دکھائی دیے، جو کہ ایک سابق ایئرپورٹ کی جگہ بنایا گیا ہے۔
برازیل، ماحولیاتی تبدیلی آج دنیا کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے، مریم نواز
سمٹ کے دوران پہلے بھی کئی مرتبہ ماحول دوست گروہوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں، جو جنگلات کے تحفظ اور تیز رفتار موسمیاتی اقدامات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ان مظاہروں کے باعث متعدد مرتبہ مذاکراتی سیشنز بھی متاثر ہوتے رہے۔
آگ کا یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب عالمی رہنما موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے اہم فیصلے کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے، تاہم اب سب کی نظریں فائر سروس کی سیکیورٹی رپورٹ پر ہیں، جس کے بعد ہی یہ طے ہوگا کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع ہوں گے۔
