بیرون ملک بیٹھ کر انسانی حقوق کی آڑ میں پاکستان میں دہشتگردی کا ایک اور نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا۔
پاکستان میں انتشار اور دہشتگردی کی مرتکب مجرمہ کو امریکی عدالت میں سزا سنا دی گئی ، امریکا کی عدالت میں ایم کیو ایم لندن کی سرگرم رکن کو 8 سال قید کی سزا سنائی گئی ۔
ایم کیو ایم لندن کے رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا
مجرمہ کو عالمی دہشتگردی سے متعلق جھوٹے بیانات دینے کے جرم میں سزا سنائی گئی، امریکی عدالت نے کہا
مجرمہ نے ایم کیو ایم لندن کیلئے سہولت کار کے طور پر کام کیا۔
سزا یافتہ مجرمہ پاکستان میں دہشتگرد حملوں کیلئے رقوم منتقل کرتی رہی،مجرمہ نے کراچی میں آتش زنی اورپیٹرول بم حملوں کی منصوبہ بندی کی،امریکا میں بیٹھ کر فنڈز جمع کیے اور حملہ آوروں کیلئے اسلحہ خریدنے میں مدد کی۔
بیرون ملک بیٹھ کر کراچی کو نشانہ بنانے اور دہشتگردی کی سازش میں بھی کردار ادا کیا،مجرمہ نے ایف بی آئی سے اپنی شمولیت کے بارے میں بھی جھوٹ بولا۔
مجرمہ نے ایم کیو ایم لندن کے کارکنوں سے رقوم جمع کر کے پاکستان بھجوائیں۔سزا یافتہ مجرمہ نے خود کو ایک نام نہاد انسانی حقوق کی کارکن کے طور پر پیش کیا۔
27ویں آئینی ترمیم، ایم کیو ایم کا بلدیاتی حکومتوں کو اختیارات دینے کا مطالبہ
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی سرزمین کو بیرون ملک دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ،پاکستان مخالف نیٹ ورکس اپنی اصلیت چھپانے کیلئے سیاسی بیانیے کا سہارا لیتے ہیں۔
پاکستان کے خلاف سرگرم عمل بیرون ملک روپوش دیگر دہشتگرد بھی جلد اپنے انجام کو پہنچیں گے،بیرونِ ملک مقیم افراد دہشگردانہ کارروائیوں میں ملوث پائے گئے تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
