آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پاکستان میں انسداد کرپشن کی تمام کوششیں اب تک مکمل کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔
آئی ایم ایف گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ میں کہا گیا کہ افسران اہم فیصلے لینے سے کتراتے ہیں، پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کامیابی سے حاصل کیے لیکن پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے اہداف میں سزاؤں پر عمل درآمد سست رہا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ منی لانڈرنگ میں ملوث افراد کے خلاف سزاؤں کے فیصلے کم ہوئے، سرکاری اخراجات میں کمی کے لیے بیشتر کوششیں مکمل کامیاب نہیں ہوئیں۔
کرپشن کے خاتمے کے لیے کئی اداروں میں بھرپور صلاحیت نہیں ہے، آئی ایم ایف رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سرکاری اداروں میں بہت سے کام عارضی اور ایڈہاک بنیادوں پر کیے جاتے ہیں۔
پاکستان ، بھارت اور افغانستان کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہیں ، روس کی پیشکش
کئی وزارتوں میں موجود افسران متعلقہ وزارت کے امور کی مہارت نہیں رکھتے، ٹیکس نظام میں پچیدگیاں حکومتی کمزوری کو ظاہر کرتی ہیں۔
آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹیکس افسران کی کارکردگی کا احتساب ہونا ضروری ہے۔
