جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے کہا ہے کہ سلامتی کونسل میں ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے حق میں ووٹ دے کر پاکستانی حکمرانوں نے نہ صرف اپنے عوام کے جذبات کی توہین کی ہے بلکہ فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے اسرائیلی مظالم میں اپنا حصہ بھی شامل کرلیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لاکھوں فلسطینی کئی برسوں سے ظلم و ستم کا شکار ہیں لیکن اس کے باوجود عالمی طاقتیں اور regional قوتیں مؤثرکردارادا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
اسلم غوری کے مطابق عالمی عدالتِ انصاف نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کوجنگی مجرم قراردیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ فلسطینی بے گناہ شہریوں پرہونبوالے مظالم کسی بھی طرح جائزیا قابلِ تائید نہیں۔
مغربی کنارے اور مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی کارروائیاں عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں ، پاکستان
انہوں نے کہا کہ امن معاہدوں کے باوجود اسرائیلی فورسزکی جانب سے فلسطینی علاقوں پرحملے جاری رہتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔
ترجمان جے یو آئی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کو فلسطین کے مسئلے پرامتِ مسلمہ کے دیرینہ مؤقف کی ترجمانی کرنی چاہیے تھی مگرانہوں نے عالمی دباؤ کے سامنے سرجھکا کرقوم کے جذبات کو مجروح کیا۔
اسلم غوری نے کہا کہ ہمارے دل آج بھی اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کیساتھ دھڑکتے ہیں اورپوری امت کا مطالبہ ہے کہ مسلم حکمران مظلوموں کا ساتھ دیں اورظالم کے خلاف واضح اورجرات مندانہ مؤقف اختیارکریں۔
