وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا حکومت کو پہلا ریلیف دیتے ہوئے اس کی اپیل پر حکم امتناع جاری کر دیا۔
جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ویجز ایکٹ خیبرپختونخوا کی ایک شق ختم کرانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے دوران جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ غریب مزدور کے پاس سیکیورٹی ڈپازٹ کی مد میں اتنا پیسہ کہاں سے آئے گا۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ کیس غریب مزدوروں سے متعلق ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق کوئی نجی ادارہ مزدور کو کام سے نکالے گا تو اس کے واجبات ادا کرے گا اور اگر نجی ادارہ واجبات ادا نہیں کرتا تو مزدور متعلقہ محکمے میں اپیل کر سکتا ہے۔
پنجاب بار کونسل کا 27 ویں آئینی ترمیم اور آئینی عدالت کے قیام کی حمایت کا اعلان
اے اے جی کے مطابق اگر مزدور کے حق میں فیصلہ آئے تو نجی ادارہ اپیل میں واجبات سیکیورٹی کی مد میں جمع کرائے گا، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے نجی ادارے کی اپیل کے ساتھ سیکیورٹی ڈپازٹ کی شرط ختم کر دی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کر دیے جبکہ عدالت سے یہ بھی استدعا کی گئی کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو معطل کرکے حکم امتناع دیا جائے۔
