چین نے ملک کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر دریافت ہونے کا اعلان کیا ہے۔
اسے چین کے قیام کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔معدنیات کی تلاش میں چین کی وزارت قدرتی وسائل نے اسے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
وزارتِ قدرتی وسائل کے حکام کا کہنا ہے کہ چین میں پہلی بار ہزار ٹن سے زائد سونے gold کے ذخائر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے، شمال مشرقی چین کے صوبے لیاؤننگ کے علاقے لیاؤ ڈونگ میں یہ کان واقع ہے۔
China's Ministry of Natural Resources announced on Thursday the discovery of the country's first ultra-large deposit containing over 1,000 tonnes of gold. The Dadonggou deposit, located in northeast China's Liaoning Province, holds an estimated 1,444.49 tonnes of gold within… pic.twitter.com/eIIRHL1lDY
— CGTN (@CGTNOfficial) November 14, 2025
چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ اس کان میں تقریباً 1,444.49 ٹن سونا موجود ہے، اس کان کی معاشی فزیبلٹی رپورٹ منظور کر لی گئی ہے اس طرح اب کان سے سونا نکالنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
اس مقام پر تقریباً 2.586 ملین ٹن خام دھات موجودہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اس میں فی ٹن اوسطاً 0.56 گرام سونا شامل ہے جو مجموعی طور پر تقریباً 1,444 ٹن بنتا ہے۔ عالمی مارکیٹ کی موجودہ قیمتوں کے مطابق اس مقدار کے سونے کی قیمت 166 ارب یورو بنتی ہے۔
سونے کی قیمت میں تاریخ کی بڑی کمی، فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟
اس سونے کی پاکستانی روپوں میں قیمت 54.78 ٹریلین پاکستانی روپے بنتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ منصوبہ ریاستی ملکیتی لیاؤننگ جیولوجیکل اینڈ مائننگ گروپ نے مکمل کیا ہے، اس منصوبے کو مکمل کرنے میں ایک ہزار ماہرین اور مزدوروں نے حصہ لیا۔
