پشاور، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی گورننس، اصلاحاتی ایجنڈے اورامن و استحکام سے متعلق پالیسی گائیڈلائنز طے کی گئیں۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت کی سمت عوامی توقعات اورصوبائی مفادات کے مطابق ہوگی، تمام اقدامات اوراصلاحات منتخب نمائندوں کی مشاورت اورمکمل شفافیت کیساتھ کیے جائیں گے تاکہ دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے گزشتہ روزامن جرگے میں شریک تمام سیاسی جماعتوں کا خصوصی شکریہ ادا کیا، سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگرامن اوراستحکام ہم سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے امن کیلئے سیاسی تعاون اور یکجہتی ناگزیر ہے۔
صدر آصف زرداری نے جسٹس منصور اور جسٹس اطہر من اللہ کے استعفے منظور کرلئے
کابینہ اجلاس میں صوبائی اسمبلی کی منظورشدہ قراردادوں پرمکمل اوربروقت عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام قوانین کا ازسرِنوجائزہ لیا جائے، خامیوں کی نشاندہی کی جائے اور ضروری ترامیم کیلئے سفارشات تیار کی جائیں۔
سہیل آفریدی نے اس موقع پراعلان کیا کہ خیبر پختونخوا کوسود سے پاک صوبہ بنانے کیلئے جامع پالیسی پر کام جاری ہے، جوحکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، معاشی نظام میں اصلاحات لانے کیلئے تمام متعلقہ فریقین سے مشاورت کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ حکومتی فنڈز پر کسی بھی قسم کی ذاتی تشہیر کی اجازت نہیں دی جائے گی اورعوامی پیسے کا ہراستعمال شفافیت اورنظام کی بہتری کے لیے ہوگا۔
