اسلام آباد، اپوزیشن اتحاد کے رہنما محمود خان اچکزئی نے حکومت کو سخت انتباہ دیا اور کہا کہ جمعے سے تحریک کا آغاز کریں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد نے واضح کیا کہ احتجاج پُرامن ہوگا اور ایک پتھر بھی نہیں مارا جائے گا لیکن حکومت کو ان کے خلاف اقدامات کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
محمود خان نے مزید کہا کہ تمام غیرملکی سفیروں کو خطوط لکھیں گے اورانہیں ہدایت دیں گے کہ حکومت کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدے ختم کردیئے جائیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس 14 نومبر کو طلب
انہوں نے عالمی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 45 فیصد لوگ غربت کی لائن سے نیچے ہیں اور یہ صورتحال حکومت کی ناقص پالیسیوں کا ثبوت ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کا آئین بالادست ہوگا، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ بنے گی اور تمام صوبوں کے معدنی وسائل پر پہلا حق متعلقہ صوبے کا ہوگا انہوں نے مذاکرات کی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سے ہمارا مینڈیٹ واپس لینا اولین ترجیح ہوگی۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے اختیارات محدود کر دیئے گئے ہیں اور چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کو ختم کردیا گیا، تاہم وہ اس عہدے کو بحال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے اختیارات اور تشخص کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور موجودہ ترامیم آئین کی روح کے منافی ہیں، عدالتی اصلاحات ضروری ہیں، لیکن ججوں کے ساتھ رویہ ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آئینی ترامیم میں نئی کلاز شامل کرنے اور چیف جسٹس کے کردار کو محدود کرنے کی کوشش کو مسترد کیا جائے۔
