وزیراعظم شہباز شریف نے 27ویں آئینی ترمیم کی کامیابی پر ایوان کو مبارکباد دی اور کہا کہ آج ایوان نے یکجہتی اور اتحاد کی ایک شاندار مثال قائم کی۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مرحوم محسن دوست عرفان صدیقی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین سیاستدان اوراستاد تھے جنہوں نے اپنی زندگی علم اورعوام کی خدمت میں گزاری۔
وزیراعظم نے وانا میں حالیہ دہشتگردانہ حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ کوشش سانحہ اے پی ایس جیسی افسوسناک یادیں تازہ کرنے کی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ وانا کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے تمام دہشتگرد مارے جاچکے ہیں اور طلبہ کو باحفاظت ریسکیو کرنے پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔
اسلام آباد میں بھی گزشتہ روز ہونے والے دہشتگردانہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حملہ آوروں میں افغان شہری بھی شامل تھے اور بھارت دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔
قومی اسمبلی سے 27 ویں آئینی ترمیم دوتہائی اکثریت سے منظور
وزیراعظم نے افغان سرزمین کے پاکستان مخالف استعمال پر سخت تنقید کی اور کہا کہ افغان وزیر خارجہ حملے کے وقت بھارت میں موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کومختلف محاذوں پر شکست دے کر مودی حکومت کو بے بس کردیا اور اس فتح نے پاکستان اور افواج کا نام دنیا بھرمیں روشن کیا، پاکستان کو گزشتہ دہائیوں میں جوعزت ملی ہے، وہ قابل فخر ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ بھارت کی طرف سے بلوچستان ٹرین حملے میں ملوث ہونے کے ثبوت بھی دنیا کے سامنے ہیں اور بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے بھارت سے رابطے ثابت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم جھوٹے دعوؤں پر یقین نہیں کرتے اور ہر حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے والے عناصر کیخلاف کارروائی جاری رہے گی اور بھارت کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔
وزیراعظم نے اپوزیشن کی رائے کا احترام کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف کرنا ہرکسی کا حق ہے اور بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ ان کی سوچ بھی کئی اہم امور میں یکساں ہے۔
انہوں نے صوبوں کی مضبوطی پرزوردیتے ہوئے کہا کہ اگرصوبے مضبوط ہوں گے تووفاق بھی مضبوط ہوگا، وزیراعظم نے کالا باغ ڈیم کی اہمیت پربات کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کی حمایت کے بغیر یہ منصوبہ منظورنہیں ہوگا۔
خطے میں امن کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم نے افغان طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ آئیں، بیٹھیں اور صدق دل سے بات کریں تاکہ خطے میں قیام امن اور دہشتگردی پر قابو پایا جا سکے، انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان نے ہر چیلنج کا مقابلہ کیا ہے اور اب بھی تیار ہے کہ کسی بھی خطرے کا مؤثر جواب دیا جائے۔
ہم نے میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کے قیام کا وعدہ کیا تھا اور اب وہ وعدہ پورا کیا جا رہا ہے، گالی گلوچ اور دشنام طرازی کو ترک کرنا ہوگا اور ملکی ترقی کے لیے سب کو آگے بڑھنا ہوگا، وزیراعظم نے آرمی چیف کو فیلڈ مارشل کا اعزاز دینے کا ذکر کیا اور چیف جسٹس آف پاکستان کا بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ قومی خزانے میں جو اربوں روپے معلق تھے، وہ واپس آئے اور چیف جسٹس ہی اہم آئینی اداروں کی سربراہی کریں گے، پاکستان کو گزشتہ چند ماہ میں وہ عزت نصیب ہوئی جو دہائیوں میں نہیں ملی، قومیں ہمیشہ اپنے ہیروز کو عزت دیتی ہیں اور ہم اپنے ہیروز کو نہ صرف عزت دیتے ہیں بلکہ دلانے میں بھی یقین رکھتے ہیں۔
شہباز شریف نے بلاول بھٹو کی پرجوش تقریر کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ مشاورت کے بغیر 18ویں ترمیم یا این ایف سی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، کالا باغ ڈیم کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ایک شاندار منصوبہ ہے، مگر اگراس سے وفاق کو نقصان پہنچے تواسے منظور نہیں کیا جائے گا اور وفاق کی مضبوطی کے لیے ہم قربانیاں دینے کو تیار ہیں۔
وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں افواج پاکستان اور دیگر ادارے دے رہے ہیں، جبکہ ان کے تمام اخراجات وفاق برداشت کر رہا ہے، پاکستان ہے تو ہم ہیں اور تمام فیصلے بیٹھ کر طے کریں گے۔
وزیراعظم نے کسٹم ڈیوٹی کے حوالے سے کہا کہ آئین میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے، مگر یہ ایک روایتی طریقے سے جاری ہے۔
