اسلام آباد ہائیکورٹ نے ججز کی تقرری کیلئے ایگزیکٹو کی عدلیہ سے مشاورت لازمی قرار دیدی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 73 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے تین ستون مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ آزاد ہیں اور کسی کو دوسرے پر بالادستی حاصل نہیں۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی قانون یا انتظامی عمل جو عدلیہ کی آزادی کو متاثر کرے وہ آئین سے متصادم اور باطل ہے، ماتحت عدلیہ بھی اسی آئینی تحفظ کی حقدار ہے جو اعلیٰ عدلیہ کو حاصل ہے۔
سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی آئینی درخواستیں اعتراضات کیساتھ واپس کر دیں
عدالت نے کہا کہ ججز کی سروس کی شرائط میں آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر اختیارات کا استعمال شامل ہو گا، ججز تعیناتی میں وفاقی حکومت اپنے اختیارت اسلام آباد ہائیکورٹ سے مشاورت کے بعد استعمال کرے۔
عدالت نے کہا کہ اسلام آباد میں صوبوں سے ڈیپوٹیشن پر لائے گئے ججز عدلیہ کی خودمختاری کو متاثر کرتے ہیں، عدالتی افسران کی تقرری، مدت ملازمت اور برطرفی کیلئے حکومت ترمیم کرے۔ ترمیم ہونے تک تقرری، ٹرانسفر یا برطرفی سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ کے ساتھ مشاورت سے ہو گی۔
چیئرمین پی ٹی اے نے عہدے سے ہٹائے جانے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کر دیا
فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائیکورٹ کی مشاورت کے بغیر تقرری، ٹرانسفر یا برطرفی غیر قانونی تصور ہو گی ،عدالت نے
وزارت قانون و انصاف اور کابینہ ڈویژن کو فیصلے کی نقول بھجوانے کا حکم دیدیا۔
