کراچی، مفتی اعظم مفتی تقی عثمانی نے صدر مملکت کو تاحیات مقدمات سے استثنیٰ دینے کی تجویز پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام میں کوئی بھی شخص چاہے وہ کسی بھی بڑے عہدے پر فائز ہو، کسی بھی وقت عدالتی کارروائی سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ خلفائے راشدین کی مثالیں سب کے سامنے ہیں اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد بھی قانون کی گرفت سے باہر نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے بھی ہمارے دستور میں صدر کو صدارت کے دوران محدود تحفظ دیا گیا تھا، جو شریعت کے اصولوں کے خلاف تھا، اوراب کسی کو تاحیات یہ استثنیٰ دینا آئین اورشریعت کی روح کے بالکل خلاف ہوگا۔
ستائیسویں آئینی ترمیم پر جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط، فوری اقدام کا مطالبہ
یہ اقدام نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہے بلکہ ملک کے لیے انتہائی شرمناک ثابت ہوگا، انہوں نے پارلیمنٹ کے ارکان سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ اس گناہ کو اپنے سر نہ لیں اور ملک کی عزت و وقار کا تحفظ کریں۔
مفتی تقی عثمانی نے دعا کے الفاظ میں کہا: “اللہ تعالیٰ ملک کو اس بے عزتی اور نقصان سے بچائیں، آمین۔”
انکے مطابق قانونی مساوات، شریعت کی پابندی اور آئین کی روح کے مطابق ہر شہری کو قانون کے تابع رکھنا لازمی ہے، چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز ہو تاکہ عدل و انصاف قائم رہے اورملک میں عوامی اعتماد برقرار رہے۔
