اسلام آباد: رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ آپ کبھی تو سویلین کی بالادستی کے لیے کوئی کام کریں۔
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوانس معافی مانگتا ہوں کوئی ناراض نہ ہو۔ میں تحریک انصاف سے منتخب ہوا۔ اور تین بار نکالا جاچکا ہوں۔ آج جو ماحول میں نے دیکھا وہ افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایوان میں آصفہ بی بی بیٹھی تھیں اور ان کی شہید ماں کا تذکرہ کیسے کیا گیا۔ 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو نے آئین متفقہ طور پر منظور کرایا اور ایک آمر نے پھانسی دے دی۔ ہمارا لیڈر بھی جیل میں ہے۔ زیادتی، ناروا ہے۔ جو ایک حقیقت ہے۔
شیر افضل مروت نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف تقریر کر رہے تھے۔ لیکن ان کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا وہ قابل قبول نہیں رہا۔ آپ آج کہتے ہیں پولیس اور ان کے خلاف نہ بولیں۔ اور میں نے اپنے بچے اسی ڈر کی وجہ سے باہر بھیج دیئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو کرنا ہے کریں مگر زندگی اتنی تنگ نہ کریں کہ اپنے ملک میں اپنی دھرتی پر چھپنا پڑے۔ ہم ہندوستان پر لعنت بھیجتے ہیں اور ہم اس کے لیے کام آجائیں اور کیا سعادت ہے۔
رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جتنی جیل آصف زرداری نے کاٹی کسی نے نہیں کاٹی۔ آپ خوامخواہ کیوں تنقید کرتے ہیں۔ جبکہ آپ اس ایوان میں ایک دوسرے کو انسان تک نہیں سمجھتے۔ 243 کے آرٹیکل میں ترمیم ہو رہی ہے۔ اور یہ واحد شق ہے جو سویلین بالادستی کا عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس کا عہدہ بنایا جا رہا ہے۔ اور کوآرڈینیشن کے نام پر وزیر اعظم سے نیوی، بحریہ کی تقرری لی جا رہی ہے۔ آپ کبھی تو سویلین کی بالادستی کے لیے کوئی کام کریں۔ آپ ایک جج کی حد 5 سال بڑھا رہے ہیں۔ جبکہ ایک جج ریٹائر ہو رہا ہے اور آپ اسے رکھنا چاہتے ہیں۔ آپ مرضی کے جج اور عدلیہ سے نکلیں، اللہ کے نوشتہ کا کسی کو علم نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کو ترمیم منظور کرانے میں تحریک انصاف نے مدد کی، سینیٹر فیصل واوڈا
شیر افضل مروت نے کہا کہ عوام توقع رکھتے ہیں کہ آپ ان کے لیے کوئی قانون سازی کریں گے۔
