27ویں آئینی ترمیم کے بل کو سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کرنے سے قبل حکومتی اتحاد کا اعتماد قابلِ دید ہے۔
اس اعتماد کا عملی مظاہرہ سینیٹر فیصل واوڈا نے کیا جب وہ ہاتھ میں مٹھائی کی ٹوکری اٹھائے ایوانِ بالا میں داخل ہوئے۔
انہوں نے صحافیوں اور اراکینِ پارلیمنٹ کو مٹھائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ “یہ 27ویں آئینی ترمیم کی مٹھائی ہے، سب طے پا گیا ہے۔”
فیصل واوڈا نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں نے میڈیا کے دوستوں کو پہلے ہی بتا دیا تھا، اب آپ سب کو 27ویں ترمیم کی خوشی میں مٹھائی کھلا رہا ہوں۔ 27 اور 28 کی بحث ختم، اب فیصلہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ “27ویں ترمیم کی مٹھائی کھائیں اور 28ویں کی تیاری کریں۔”
سینیٹر واوڈا نے کہا کہ ہم جمہوری روایات پوری کرنے آئے ہیں، وزیراعظم نے آئینی روایت کے تحت احسن اقدام کیا ہے۔ ملک میں آئینی عدالت کی ضرورت تھی، اور اب ہماری ڈیفنس لائن مزید مضبوط ہوگی۔”
مٹھائی لائی تو لائی، بڑی ہڈدرمی سے بانٹ بھی دی… 🚨فیصل واوڈا نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے پہلے ہی مٹھائی بانٹ دی۔۔@FaisalVawdaPAK pic.twitter.com/vfDHdkPmq0
— Aaishha butt (@AaiShious) November 10, 2025
انہوں نے اس موقع پر مسکراتے ہوئے کہا کہ نوکری کے ساتھ نخرہ نہیں ہوتا، خواہش ہے کہ سارے سیشن کراچی میں ہوں۔”
آئینی ترمیم میں صدر کے لیے مجوزہ استثنیٰ پر بات کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ “جو چیز” موجودہ صدر کیلئے ہوگی، وہ مستقبل کے صدور کیلئے بھی ہوگی۔
پارٹی پوزیشن
واضح رہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ کا اجلاس جاری ہے۔ حکومت کو ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت یعنی 64 ووٹ درکار تھے۔
سینیٹ میں حکومتی اتحاد کے سینیٹرز کی تعداد 61 ہے، جن میں پیپلز پارٹی کے 26، مسلم لیگ (ن) کے 20، بلوچستان عوامی پارٹی کے 4، ایم کیو ایم کے 3، نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے ایک ایک سینیٹر، اور 6 آزاد سینیٹرز — حافظ عبدالکریم، عبدالقادر، محسن نقوی، انوار الحق کاکڑ، اسد قاسم اور فیصل واوڈا — شامل ہیں۔
ترمیم کی منظوری کے لیے حکومت کو عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) یا جمعیت علمائے اسلام (ف) کی حمایت درکار تھی۔ سیاسی ذرائع کے مطابق اے این پی کی غیر رسمی حمایت کے بعد حکومتی اتحاد کو مطلوبہ اکثریت حاصل ہو گئی، جس کے بعد سینیٹ میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری تقریباً یقینی ہو گئی۔
قومی اسمبلی میں پہلے ہی حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے، جہاں حکومتی اتحاد کے ارکان کی تعداد 237 ہے جبکہ ترمیم کے لیے 224 ووٹ درکار تھے۔
