پنجاب حکومت نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے گاڑیوں کے ایمی شن ٹیسٹ (Emission Test) کی فیس مقرر کر دی ہے، جو 10 نومبر 2025 سے صوبے بھر میں نافذالعمل ہوگی۔
محکمہ تحفظِ ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی (Environment Protection and Climate Change Department) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف انجن کیپسٹی والی گاڑیوں کے لیے الگ الگ فیسیں مقرر کی گئی ہیں۔
کراچی ای چالان، اپنی پرانی گاڑیوں کے جرمانے سے کیسے جان چھڑائیں؟
محکمے کے مطابق 1,000cc تک کی گاڑیوں کے لیے فیس 500 روپے، 1,001cc سے 1,500cc تک کی گاڑیوں کے لیے 800 روپے، جبکہ 1,501cc سے 2,500cc تک کے انجن والی گاڑیوں کے لیے 1,000 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح 2,501cc سے 4,500cc تک کی گاڑیوں کے مالکان کو 1,500 روپے اور 4,500cc سے زائد انجن کیپسٹی رکھنے والی گاڑیوں کے لیے 2,000 روپے فیس ادا کرنا ہوگی۔
محکمہ ماحولیات کے مطابق یہ فیس صرف ای پے (e-Pay) سسٹم کے ذریعے جمع کروائی جا سکے گی، جس کے بعد صارف کے رجسٹرڈ موبائل نمبر پر ادائیگی کا تصدیقی ایس ایم ایس بھی موصول ہوگا۔
اسلام آباد میں گاڑیوں کے لیے کاربن اخراج ٹیسٹ لازمی قرار، آلودگی پر قابو پانے کے نئے اقدامات
مزید ہدایت کی گئی ہے کہ موٹر سوار حضرات ٹیسٹ کے وقت اپنا قومی شناختی کارڈ (CNIC) لازمی ساتھ لائیں۔محکمے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فضائی آلودگی، خاص طور پر سموگ کے بڑھتے خدشات پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ سڑکوں پر صرف وہی گاڑیاں چل سکیں جو ماحولیاتی معیار پر پوری اترتی ہوں۔
عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت کے اس فیصلے کو ماحولیاتی بہتری کی جانب مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے، تاہم بعض شہریوں نے فیسوں میں نرمی اور سہولیات میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
