ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی نے ایشیائی کرکٹ کو فروغ دینے کے لیے نئے اور دلچسپ ٹورنامنٹس کے انعقاد کا اعلان کیا ہے، جن میں ’’لیجنڈ آف ایشیا‘‘ ایونٹ اور ایسوسی ایٹ ممبر ممالک کے لیے علیحدہ لیگ شامل ہیں۔
رپورٹس دوحہ میں ہفتہ 8 نومبر کو منعقدہ اجلاس میں اے سی سی نے سابق کرکٹ ستاروں پر مشتمل ’’لیجنڈ آف ایشیا‘‘ مقابلے کی منظوری دی، جس میں بھارت کے شیکھر دھون اور پاکستان کے شاہد آفریدی کے درمیان ممکنہ ٹاکرا شائقین کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
ان ایونٹس کی میزبانی عمان اور دوحہ میں کیے جانے کا امکان ہے، جہاں عالمی معیار کے کرکٹ اسٹیڈیم تیار کیے جا چکے ہیں۔
158M SIX BY SHAHID AFRIDI 🇵🇰🔥🔥🔥
The biggest hit in the history of international cricket. I cannot believe it 🤯pic.twitter.com/Lyjv23u1k0
— Farid Khan (@_FaridKhan) June 20, 2024
محسن نقوی کی زیر صدارت اے سی سی نے 2025 کے ایشیا کپ کی غیر معمولی کامیابی کے بعد ان نئے ایونٹس کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق ایشیا کپ 2025، جو ستمبر میں متحدہ عرب امارات میں کھیلا گیا، توقعات سے بڑھ کر کامیاب رہا اور ناظرین کی تعداد نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ اسی کامیابی سے حوصلہ پاکر اے سی سی نے اب اپنے کلینڈر میں مزید ٹورنامنٹس شامل کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ کرکٹ کو ایشیا کے ابھرتے ہوئے ممالک میں فروغ دیا جا سکے۔
اس اجلاس میں ’’رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ‘‘ کی تیاریوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جو 14 سے 23 نومبر تک دوحہ میں کھیلا جائے گا۔ یہ ٹورنامنٹ 8 ٹیموں پر مشتمل ہوگا، جن میں بھارت، پاکستان، عمان، متحدہ عرب امارات، بنگلادیش، سری لنکا، افغانستان اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔ بھارت اور پاکستان کا پہلا میچ 14 نومبر کو شیڈول ہے، جو ٹورنامنٹ کا سب سے ہائی پروفائل مقابلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اے سی سی صدر محسن نقوی نے اجلاس میں ہدایت دی کہ نئے ایونٹس کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائے تاکہ ایشیا کے نئے ممالک میں کرکٹ کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایشیا میں ابھرتی ہوئی ٹیموں کو مکمل تعاون اور مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ بین الاقوامی سطح پر تجربہ حاصل کر سکیں۔
Shahid Afridi bowling in BBL pic.twitter.com/obXupH2uXB
— CAPTAIN SUII 🐐 (@VKBA1856) July 31, 2024
رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے ممکنہ مقابلے پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ٹیمیں فائنل تک پہنچتی ہیں تو یہ ٹورنامنٹ ایک تاریخی موقع ثابت ہوگا۔
محسن نقوی فائنل کے مہمان خصوصی ہوں گے اور امکان ہے کہ وہ فاتح ٹیم کو ٹرافی پیش کریں گے، جس سے ایونٹ میں ایک اور دلچسپ موڑ شامل ہو جائے گا۔
